علی جہانگیر صدیقی کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہو رہی ہیں: خواجہ آصف

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حکومت کی جانب سے امریکہ میں نئے پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ دنوں علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں نئے سفیر کے طور پر تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔

علی جہانگیر صدیقی اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور تھے تاہم اس اعلان کے بعد حکومت کے مخالفین نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ثمینہ سید کے ایوان میں نکتۂ اعتراض کے جواب میں کہ ایک ناتجربہ کار شخص جن کے خلاف کئی الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہیں کیسے امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا ہے؟

خواجہ آصف نے کہا کہ سفیروں کی تقرری کے لیے پارلیمان کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ انتظامیہ کا صوابدیدی اختیار ہے اور 20 فیصد کوٹے پر حکومت ماضی کی طرح کسی بھی نان کریئر شخص کو سفارت کاری کی ذمہ داری دے سکتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اعزاز چوہدری 27 فروری کو ریٹائر ہو چکے ہیں جس کے بعد حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

علی صدیقی، حکومت کا دلیرانہ انتخاب؟‘

پاکستان امریکہ تعلقات، کبھی نرم کبھی گرم

تصویر کے کاپی رائٹ JS Bank

خواجہ آصف نے علی جہانگیر صدیقی کے خلاف کسی بھی تحقیقات کی خبروں کو غلط قرار دیا۔ ’علی جہانگیر صدیقی کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہو رہی ہے اور نیب میں بھی ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہے۔‘

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایوان چاہے تو یہ ترمیم متعارف کروائی جا سکتی ہے جس میں سفارت کاروں، ججوں اور دیگر اہم عہدوں کی تقرری کی توثیق پارلیمان کرے۔

انھوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی مثال دی جہاں ان کے مطابق چار ہزار عہدوں پر تقرری کی توثیق کانگرس کرتی ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ ’اگر ایسا ہو جائے تو اچھا ہے۔‘

خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بہت سے ایسے لوگوں کو امریکہ میں نان کریئر افراد کو بطور سفیر امریکہ میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ابھی نئے سفیر کی منظوری امریکہ سے نہیں آئی ہے جونہی وہ آئے گی وہ اپنی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔‘

وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ امریکہ کے بدنام زمانہ قید خانے گوانتناموبے میں آج بھی حکومت پاکستان کے مطابق چار قیدی موجود ہیں اور ان کے مستقبل کے بارے میں حکومت پاکستان امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

خواجہ آصف نے ایوان کو ایک تحریری جواب میں ان قیدیوں کے نام تو نہیں بتائے تاہم یہ کہا کہ ان میں سے دو پر ابھی تک کسی جرم کا باضابطہ الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے خواجہ آصف کو بتایا کہ ان کے علاقے بلوچستان سے ایک قیدی کل ہی واپس آیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ باقی دو میں سے ایک (غالباً خالد شیخ محمد) گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے واقعے کے شریک ملزم ہیں جبکہ ایک دوسرے نے قتل اور قتل کی سازش کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اسی بارے میں