’بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے شواہد نہیں ملے‘: پولیس

پاکستان پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی میں آٹھ اپریل کو ایک واقعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کو جھلسا ہوا پایا گیا اور اگلے روز لاہور کے جناح ہسپتال کے برن سینٹر میں اس کی موت ہو گئی جس کے بعد نا صرف چیچہ وطنی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک انتہائی سخت ردِ عمل سامنے آیا۔

چیچہ وطنی میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا جبکہ سوشل میڈیا پر بچی کے لیے انصاف کی اپیل کی جاتی رہی۔

اس اپیل کی وجہ یہ تھی کہ مقامی ذرائع ابلاغ نے اس واقعہ کے حوالے سے جو خبریں نشر کیں ان میں یہ کہا گیا کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلا دیا گیا یا آگ لگا دی گئی تھی۔

تاہم پولیس نے واقعہ کی ابتدائی تفتیش کے بعد کہا کہ اب تک نہ تو یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ اسے آگ لگائی گئی یا حادثاتی طور پر آگ لگی۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

پاکستان: پانچ سال میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار واقعات

پولیس کو ان دونوں امور کی تصدیق اور مزید تحقیقات کے لیے فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے تاہم پولیس نے 11 افراد کو شک کی بنا پر حراست میں لے لیا ہے جن کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور بھی لے جایا جائے گا۔

اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ حقائق اس کے برعکس ہیں جو ابتدائی طور پر مقامی ذرائع ابلاغ پر دکھائے جاتے رہے۔ اس بات کے تاحال شواہد نہیں ملے کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق آٹھ سالہ بچی گھر سے ٹافیاں خریدنے گئی اور واپس نہیں آئی۔ جب اس کی تلاش کی گئی تو وہ جھلسی ہوئی حالت میں ملی جسے مقامی ہسپتال کے بعد جناح ہسپتال لاہور لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

واقعہ کے ذرائع ابلاغ پر آنے کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف نے ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ ذولفقار حمید کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ساہیوال سے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کی گئی تھی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ساہیوال عاطف اکرام کی جانب سے بدھ کو چیف منسٹر سیکریٹیریٹ پنجاب لاہور کو تحقیقات میں پیش رفت کے حوالے سے ارسال کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانزک رپورٹ سے تصدیق ہو پائے گی کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں جبکہ ڈین اے ٹیسٹ کی مدد سے مزید تفتیش میں مدد ملے گی۔

بی بی سی کے پاس موجود رپورٹ کی کاپی میں دیئے گئے حقائق کے مطابق بچی گھر کے قریب واقع دکان پر گئی جہاں اس نے پانچ روپے کے پٹاخے اور تین روپے کی ٹافیاں خریدیں۔ تقریباٌ دن کے چار بجے کے قریب گلی میں اس کی چیخ و پکار سن کر محلے کی خواتین گھر سے باہر آئیں تو انھوں نے دیکھا کہ بچی کو آگ لگی ہوئی تھی۔

بچی پر کپڑے ڈال کر آگ کو بجھایا گیا تاہم اس وقت تک بچی کافی حد تک جھلس چکی تھی۔ اس کے بعد ریسکیو 1122 کی گاڑی میں بچی کو چیچہ وطنی کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کے زحم دیکھ پر پہلے اسے ساہیوال ڈسٹرکٹ ہسپتال اور پھر لاہور کے جناح ہسپتال کے برن سنٹر لایا گیا جہاں اگلے روز وہ دم توڑ گئی۔

بچی کا پوسٹ مارٹم تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی میں کیا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق بچی کی موت کی وجہ بظاہر آگ لگنا تھا جس سے ان کے جسم کا 80 فیصد حصہ جل گیا تھا۔

جناح ہسپتال لاہور کے ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ بچی کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شاہد رسول گریوال نے بتایا کہ اس بات کا تعین کرنا کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں قطعی ممکن نہیں تھا۔ انھوں نے اس کی دو وجوہات بتائیں۔

’ایک تو بچی کا جسم بہت زیادہ جل چکا تھا اور دوسرا پوسٹ مارٹم واقعہ کے دو روز کے بعد کیا جا رہا تھا۔‘

شاہد رسول گریوال کے مطابق بچی کے جسم سے چار نمونے حاصل کیے گئے، کپڑوں کا ایک ٹکڑا اور اس کے جوتے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوائے گئے جہاں سے فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹیں آنے کے بعد اس بات کا حتمی فیصلہ کیا جا سکے گا کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں اور یہ کہ اس کو آگ لگائی گئی یا پھر حادثاتی طور پر آگ لگی۔

حراست میں لیے گئے افراد اور چشم دید گواہان کے بیانات کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر کا کہنا تھا کہ انھوں نے گھر والوں سے سنا کہ بچی کو پٹاخوں سے آگ لگی تھی اور اگلے روز ان کی موت کی خبر ملی۔

اسی بارے میں