کالے دھن کو سفید کرنے کا آرڈیننس سینیٹ میں پیش، حزب اختلاف کا احتجاج

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود حکومت نے کالے دھن کو سفید کرنے اور بیرن ملک اثاثے واپس لانے سے متعلق آرڈیننس ایوان میں پیش کر دیے۔

قائد حزب اختلاف شیری رحمان نے حکومتی بنچوں کی جانب سے میثاق معیشت کی تجویز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کی موجودہ حالات میں امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

جمعرات کو ایوان بالا یا سینیٹ کے اجلاس میں معاشی امور چھایا رہا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ٹیکس فری جنت کے رہائشی

پاکستان میں نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان

اسحاق ڈار کی کون سی پالیسیاں نقصان دہ رہیں؟

وفاقی وزیر خزانہ رانا محمد افضل نے جب منی بل کے تحت بیرون ملک اثاثوں اور غیرقانونی رقم کو قانونی بنانے سے متعلق آرڈیننس ایوان میں پیش کیے تو حزب اختلاف کے اراکین نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

قائد حزب اختلاف شیری رحمان کا کہنا تھا اپنی حکومت کے آخری ایام میں اس قسم کی قانون سازی اور آرڈیننس جاری کرنے کو مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا قانون صرف مالی ہنگامی صورتحال میں معاشی آرڈیننس کی اجازت دیتا ہے۔

اس سے قبل وقفہ سوالات میں وزیر خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان پر بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے معیشت پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی اپیل کی۔

انھوں نے معیشت سے سیاست کو نکال کر خزانے پر بوجھ بنے والے سرکاری اداروں کے بارے میں اتفاق رائے کی تجویز دی تھی۔

لیکن جواب میں قائد حزب اختلاف شیری رحمان نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اب آخری دنوں میں اس طرح کی باتوں کی وجہ اگر کوئی معاشی بحران ہے تو حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے۔

دوسری جانب ایوان زیریں یا قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی روکتے ہوئے اراکین نے تارکین وطن سے متعلق ایک بل کی منظوری دی ہے۔

اسی بارے میں