پاکستان میں ’ایک لاکھ بچوں کے والدین کا پولیو ویکسینیشن سے انکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیو کے حوالے سے پاکستان کے قومی کوآرڈینیٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری حالیہ انسدادِ پولیو مہم میں اب تک ایک لاکھ بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔

تاہم ان کے مطابق مہم کے اختتام تک یہ کل تعداد کا ’صرف 0.15 فیصد رہ جاتا ہے'۔

خیال رہے کہ پاکستان نے رواں ہفتے ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تین کروڑ 87 لاکھ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے ملک بھر میں قومی پولیو ویکسین مہم کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مذہبی شخصیات کے پولیو مہم میں شمولیت کے مثبت اثرات

کوئٹہ: پولیو ورکر ماں بیٹی حملے میں ہلاک

پاکستان اس سال بھی ’پولیو فری‘ نہ ہو سکا

رانا محمد صفدر نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم میں اب تک 92 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں، 'جبکہ کسی بھی وجہ سے باقی بچ جانے والوں میں سے بھی 70 فیصد بچوں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے'۔

رانا محمد صفدر نے بتایا کہ ایک ہفتے کی اس مہم میں پانچ دن گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں، جبکہ آخری دو روز ان والدین کو قائل کیا جاتا ہے جنھوں نے پہلے مرحلے میں ویکسینیشن سے انکار کیا ہو۔

رانا صفدر نے بتایا کہ ملک بھر سے اکٹھے کیے جانے والے ماحولیاتی نمونوں میں بھی 'نہ صرف اس وائرس میں واضح کمی آئی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ وائرس مضبوط ہونے اور مزید پھیلنے کی بجائے اب خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ مارچ میں ہونے والی مہم کے دوران ایک جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کی پولیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان کے مطابق اس ویڈیو میں بچے کی موت کی وجہ پولیو کے قطرے بتائی گئی تھی جس پر لوگوں نے تصدیق کیے بغیر یقین کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ویڈیو آنے کے بعد ملک کے معروف ڈاکٹروں اور علما کی مدد لی گئی اور پولیو سے متعلق درست معلومات والدین تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کا شمار اب بھی دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔ دیگر دو ممالک افغانستان اور نائیجیریا ہیں جہاں اب بھی بچوں کو پولیو لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

سنہ 2014 سے 2018 کے دوران پاکستان میں پولیو کے کیسز میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ 2014 میں پولیو کے 306 کیس ریکارڈ کیے گئے جبکہ گذشتہ برس ملک بھر میں پولیو کے صرف آٹھ کیسز سامنے آئے تھے۔

رواں سال اب تک بلوچستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ملک کے مذہبی انتہا پسند حلقے پولیو ویکسین کو اسلام مخالف سمجھتے ہیں جبکہ کئی مرتبہ پولیو کی ٹیموں پر حملے کیے جا چکے ہیں جن میں کئی پولیو رضاکار اور کارکنان ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں