کوئٹہ: شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے عیسیٰ نگری پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شام کوئٹہ میں عیسیٰ نگری پر حملہ انھوں نے کیا جس کے نتیجے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے گرجا گھر سے عبادت کر کے نکلنے والوں کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق موبائیل ایپ ٹیلیگرام پر جاری کیے گئے پیغام میں دولت اسلامیہ نے کوئٹہ میں ہونے والے دو اور حالیہ حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کوئٹہ میں فائرنگ، چار مسیحی ہلاک

بلوچستان: ’16 برسوں میں 525 ہزارہ افراد ہلاک ہوئے‘

کوئٹہ میں دہشت گردی، وزیر اعظم کی سربراہی میں اہم اجلاس

پاکستان اور افغانستان میں کاروائیاں کرنے والی دولت اسلامیہ خراسان نے ٹیلیگرام پر اپنے پیغام میں کہا کہ 'خلافت کے سپاہیوں نے کوئٹہ میں مسیحیوں کے گرجا پر حملہ کیا ۔۔۔'

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملہ ہوا ہے جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حملہ بروری روڈ سے متصل عیسیٰ نگری میں کیا گیا۔

بروری روڈ پولیس سٹیشن کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ حملہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے کیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق حملے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک اور زخمی شخص بھی چل بسا۔

اس حملے کے بعد مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد مشتعل ہو گئے اور انھوں نے ٹائر نذر آتش کر کے بروری روڈ کو بند کر دیا۔

مشتعل مظاہرین نے بولان میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ حادثات کا دروازہ بھی توڑ دیا۔

کوئٹہ شہر میں رواں ماہ کے دوران مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر یہ دوسرا حملہ ہے۔

اس سے قبل کوئٹہ شہر میں شاہ زمان روڈ پر بھی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملہ کیا گیا تھا۔

شاہ زمان روڈ پر ہونے والے حملے میں ایک خاتون سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور ایک بچی زخمی ہوئی تھی۔

ہلاک ہونے والے ان تین افراد کا تعلق لاہور سے تھا جو کہ ایسٹر منانے کے لیے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کوئٹہ آئے تھے۔

اسی بارے میں