مردان: جیل کی سلاخوں کے اُس پار بھی علم کے چراغ

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN
Image caption سینٹرل جیل مردان میں قید خواتین بچوں اور کم عمر لڑکوں کو جیل میں تعلیم دینے کا انتظام کیا گیا ہے

جیل ایک ایسا لفظ ہے جس کےبارے میں سنتے ہی دو خیال ذہن میں آتے ہیں ایک یہ کہ یہاں قیدی ’چکی پیس رہے ہوں یا پتھر توڑ رہے ہوں گے کیونکہ یہی سب ہم برسوں سے فلموں میں دیکھتے آئے ہیں لیکن سینٹرل جیل مردان جا کر یہ دونوں ہی خیال غلط ثابت ہوئے۔

مردان پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا شہر ہے جہاں رقبے اور قیدیوں کی گنجائش کے لحاظ سے صوبے کی سب سے بڑی جیل ہے۔

اس جیل میں خواتین قیدیوں، نابالغ لڑکوں اور مردوں سمیت تقریبا 1720 کے قریب قیدی ہیں جن کے لیے الگ الگ حصے مختص ہیں۔ خواتین کے بیریکس میں کچھ قیدیوں کے ساتھ ان کے بچے بھی رہتے ہیں۔ جیل میں خواتین سمیت سبھی قیدیوں کو دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جاتی ہے۔

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN
Image caption مردان جیل میں سات بچے بھی اپنے ماؤں کے ساتھ رہتے ہیں

خواتین کے احاطے میں تدریسی عمل سے منسلک دو استانیاں ہیں جو خود بھی قیدی ہیں ساڑھے پندرہ ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض وہ ’ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے ساتھی قیدی خواتین اور بچوں کو پڑھاتی ہیں۔

تین سے سات سال کی عمر کے تقریباً سات بچے اپنی ماؤں کے ساتھ اسی جیل میں رہتے رہتے ہیں۔ ان بچوں کی تعلیم کے لیے کلاس روم میں مختلف قسم کے چارٹس لگائے گئے ہیں جنھیں زیادہ تر استانیوں کی مدد سے انہی قیدیوں نے بنایا ہے۔

بعض بچے اپنی ماؤں کے ساتھ ایک کلاس میں بیٹھ کر انگریزی، اردو اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN
Image caption قیدیوں کو کتابیں اور دیگر ضروری اشیا مفت فراہم کی جاتی ہیں

دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان خواتین کے لیے حدیث، تجوید، حفظ اور قرآن پاک کے ترجمہ کی کلاس کا بھی بندوبست ہے۔

جیل انتظامیہ پڑھنے والے تمام قیدیوں کو کاغذات اور قلم سمیت دیگر سٹیشنری مفت فراہم کرتی ہے۔

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN
Image caption نابالغ لڑکوں کے بیرکس میں بھی دو اساتذہ ہیں

سینٹرل جیل مردان میں نابالغ لڑکوں یا جووینایل بیرکس میں بھی ان کی تعلیم وتربیت کا باقاعدہ بندوبست کیا گیا ہے۔ یہاں ان کے لیے دو اساتذہ ہیں جو انھیں انگریزی اردو اور اسلامیات کی تعلیم دیتے ہیں۔

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN
Image caption کچھ قیدی تو فرصت کے لمحات میں اپنے بیرکس میں بیٹھ کر بھی پڑھتے ہیں

ان لڑکوں کے پاس اپنے بیرکس میں پڑھنے کے لیے کتابیں ہوتی ہیں اور ان میں سے کچھ قیدی فارغ اوقات میں بھی کتابیں پڑھتے ہیں۔

سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ ہفتے میں دو دن تمام قیدیوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ان سے بات چیت کرتے ہیں۔

جیل انتظامیہ کے اہلکار قیدی بچوں کے کلاس رومز کا بھی دورہ کرتے ہیں اور ان سے پڑھائی سے متعلق مسائل بھی سنتے ہیں۔

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN
Image caption جیل میں موجود کلاس رومز کی دیواروں پر چارٹ اور دیگر تدریسی مواد چسپاں ہے

اگرچہ قیدیوں کو تین وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے تاہم وہ اپنی مرضی سے بھی اپنے لیے کھانا پکا سکتے ہیں۔

بیشتر قیدیوں نے بتایا ’اس جیل میں ہمیں کھانا بھی اچھا دیا جاتا ہے اور ہماری تعلیم پر بھی زور دیا جاتا ہے تاکہ کل کو جب ہم رہا ہو کر باہر نکلیں تو ہم ایک اچھے اور پڑھے لکھے شہری کی طرح زندگی گزار سکیں۔ ‘

سینٹرل جیل مردان تصویر کے کاپی رائٹ SABA REHMAN

(تحریر و تصاویر: صبا رحمان مہمند)

اسی بارے میں