’ایک پشتون کی برسی پر تقریب کو بھی خطرے کا باعث سمجھا جا رہا ہے‘

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی ٹی ایم کی مقبولیت سے متعلق بحث کی تقریب کو اچانک منسوخ کر دیا گیا

13 اپریل کو کراچی کی حبیب یونیورسٹی کے پروگرام ڈائریکٹر اور ماہر معاشیات، ڈاکٹر فہد علی اپنے لیکچر کی تیاری کر رہے تھے جب انھیں انتظامیہ نے ہنگامی میٹنگ کے لیے طلب کیا۔

اس میٹنگ کی وجہ وہ تقریب تھی جو اُسی روز شام میں حبیب یونیورسٹی میں منعقد ہونی تھی جس میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عوام کے بنیادی حقوق کی آواز اٹھانے والی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے تناظر میں پاکستان میں سماجی تحریکوں اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے گفتگو ہونا تھی۔

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فہد علی نے بتایا کہ وہ جب میٹنگ کے لیے گئے تو ان کو بلاٹوک پیغام دیا گیا کہ اس تقریب کو ’ناگزیر حالات‘ کی بنا پر فی الفور منسوخ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اندازہ ہوا کہ حالات ایسے ہیں کہ میں بحث نہیں کر سکتا اور نہ ہی میں انتظامیہ کو قائل کرنے کے لیے کوئی نکتہ پیش کر سکتا ہوں۔ میں نے ان کے اس فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی کہ تقریب منسوخ ہو گئی ہے۔‘

ڈاکٹر فہد علی نے بتایا کہ اُس وقت انھیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ’ناگزیر حالات‘ کیا ہیں لیکن اگلے 24 گھنٹوں میں ملک کی دیگر جامعات میں ہونے والے واقعات کی مدد سے وہ کڑی سے کڑی ملانے میں کامیاب ہو گئے۔

حبیب یونیورسٹی میں تقریب کی منسوخی کے علاوہ ایسا ہی واقعہ لاہور کی لمز یونیورسٹی میں آیا جہاں گذشتہ سال توہین رسالت کے الزام میں قتل کیے جانے والے طالبعلم مشال خان کی برسی پر تقریب منعقد ہونا تھی۔

اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے گومل یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامیہ سے ملاقات کی اور ان سے یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے نصاب کے بارے میں سوال و جواب کیے۔

اس ملاقات کے بعد 12 اپریل کو یونیورسٹی کی جانب سے نوٹس جاری ہوا جس کے مطابق وہاں کے سابق طالبعلم اور پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کا یونیورسٹی میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔

یونیورسٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حکم ادارے کے وائس چانسلر کی جانب سے دیا گیا ہے لیکن کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

چوتھا واقعہ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں پیش آیا جہاں شعبہ عمرانیات کے استاد، ڈاکٹر عمار علی جان کو جامعہ کی انتظامیہ نے پڑھانے اور یونیورسٹی میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ایک خوف اور دہشت کا ماحول بنایا جا رہا ہے جہاں ایک پشتون کی برسی پر تقریب کرنا بھی خطرے کا باعث سمجھا جا رہا ہے'

ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں سے تعلق رکھنے والے چند اساتذہ نے ایک احتجاجی خط لکھا جس پر پاکستان اور دنیا بھر کی بہترین جامعات سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور پروفیسروں نے اس کی حمایت میں اپنے دستخط کیے۔

تعلیمی اداروں میں اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے خلاف لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’یہ چاروں واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں جس کا مقصد جامعات میں تنقیدی سوچ اور افکار کو سلب کرنا ہے۔‘

اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بحیثیت اساتذہ ہم پاکستانی جامعات پر ریاستی اداروں کے جبر اور دھونس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں مستقبل میں ہماری جامعات کو بیرونی مداخلت سے پاک رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔‘

اس خط کو تیار کرنے اور دنیا بھر سے سکالرز کو اس کی حمایت میں جمع کرنے میں لمز یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ماہر عمرانیات ڈاکٹر ندا کرمانی سب سے آگے رہی ہیں۔

اس سوال پر کہ اس خط کو لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، ڈاکٹر ندا کرمانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے کچھ ساتھی گذشتہ تین برسوں سے ملک بھر کی جامعات میں گھٹتی ہوئی ’انٹیلیکچوئل سپیس‘ کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک بھر کی جامعات میں اساتذہ کو متحد کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

’جب ہم نے یکے بعد دیگرے ان واقعات کے بارے میں سنا تو ہم نے یہ خط لکھنے کا فیصلہ کیا جسے میں نے اتوار کو تیار کیا اور اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا۔‘

Image caption پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں سے تعلق رکھنے والے چند اساتذہ کے احتجاجی خط کا عکس

ڈاکٹر ندا کرمانی کے مطابق اس خط کی حمایت میں تقریباً 100 دستخط جمع ہونے کے بعد اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا گیا جس کے بعد اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب تقریباً 200 کے قریب اساتذہ اور دانشور اس پر اپنی حمایت کے دستخط کر چکے ہیں جن میں معروف امریکی فلسفی نوم چومسکی بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغن لگانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور گذشتہ چار دہائیوں سے میڈیا اور صحافیوں کو مختلف نوعیت کی سینسرشپ کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔

لیکن میڈیا کے مقابلے میں تعلیمی اداروں میں اس قسم کی پابندیاں قدرے کم دیکھی گئی ہیں اور اسی وجہ سے ملک کی چار جامعات میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ان واقعات سے سول سوسائٹی اور ملک کے ترقی پسند حلقوں میں ایک پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ڈاکٹر ندا کرمانی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات گذشتہ چند برسوں سے ہمیں زیادہ نظر آ رہے ہیں جہاں سرکاری بیانیے سے ہٹ کر کی جانے والی بات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

’ان چاروں واقعات کی کڑی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے 12 اپریل کو دیے جانے والے اُس بیان سے ملتی ہے جہاں انھوں نے پی ٹی ایم کے بارے میں بات کی تھی اور اس تحریک پر میڈیا میں تو ویسے ہی سینسرشپ ہے۔‘

ڈاکٹر ندا کرمانی نے اس قدم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے واقعات کی طرح ایسے ہتھکنڈے کسی تحریک کو دبانے کے بجائے ان کو زیادہ مقبولیت فراہم کر دیتے ہیں۔

Image caption کیا حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازیں اسٹیبلشمنٹ کو ناگوار گذرتی ہیں؟

دوسری جانب حبیب یونیورسٹی کے ڈاکٹر فہد علی نے کہا کہ چند سرکاری ادارے نہیں چاہتے کہ ملک میں شفاف اور تعمیری تنقید پر مبنی گفتگو کی جائے اور وہ ہمیشہ انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’یہ کوئی پہلی دفعہ ایسا نہیں ہوا ہے کہ کسی پروفیسر کو نوکری سے نکال دیا ہو، یا کوئی تقریب منسوخ کر دی گئی ہو۔ بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر صبا دشتیاری اور کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر شکیل اوج کے قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے جہاں اختلاف رائے رکھنے والوں کو خاموش کرا دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ میڈیا اور تعلیمی اداروں میں بلوچستان میں گمشدہ افراد کا مسئلہ اور اب فاٹا کے عوام کے مسائل کے بارے میں بات کرنے سے منع کیا جا رہا ہے جس سے بظاہر یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر آپ کو کوئی اختلاف رائے ہے تو اسے محض اپنے تک محددود رکھیں۔‘

لمز یونیورسٹی کی طالبہ اور مشال خان کی برسی کی تقریب منعقد کرنے والی حفصہ خواجہ نے بھی کہا کہ 2015 میں بلوچستان کے گمشدہ افراد کے حوالے سے لمز یونیورسٹی میں منعقد کیا جانے والا پروگرام سرکاری احکامات کی وجہ سے آخری لمحے پر منسوخ کر دیا گیا تھا جس پر کافی شور مچا تھا۔

’میرا ذاتی خیال ہے کہ حالیہ واقعات کا شاخسانہ پی ٹی ایم کی مقبولیت سے ملتا ہے جہاں انھوں نے فاٹا کے عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور اصولی طور پر ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ایک خوف اور دہشت کا ماحول بنایا جا رہا ہے جہاں ایک پشتون کی برسی پر تقریب کرنا بھی خطرے کا باعث سمجھا جا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں