بلوچستان میں ونی کی جانے والی دو کم سن بچیاں بازیاب

ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل اسماعیل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں جرگے کے فیصلے کے تحت ونی کی جانے والی دو کم سن بچیوں کو بازیاب کروا لیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل اسماعیل ابراہیم نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ ونی کا یہ واقعہ ضلع کے علاقے توئی سر میں پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چند سال قبل ایک شخص جعفر خان کی بیوی اپنی مرضی سے قسمت نامی شخص کے بیٹے کے ساتھ گئی تھی جس پر دونوں خاندانوں کے درمیان تنازع تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نو سالہ لڑکی کو ونی کرنے کے جرم میں پنچایت کے رکن گرفتار

پاکستان میں ایک اور عورت ونی کی بھینٹ چڑھ گئی

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ انتظامیہ کو ایک ہفتے پہلے معلوم ہوا کہ ایک جرگہ نے دونوں خاندانوں کے درمیان فیصلہ کروایا ہے۔

اسماعیل ابراہیم کے مطابق جرگہ نے جو فیصلہ کیا تھا اس کے تحت جعفر خان کے خاندان کو 15 لاکھ روپے کی ادائیگی کے علاوہ قسمت نامی شخص کی دو کم سن پوتیوں کو ونی میں دینا تھا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ جن بچیوں کو ونی کیا گیا تھا ان میں سے ایک کی عمر چار سال جبکہ دوسری کی عمر پانچ سال ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دونوں بچیوں کو نادر نامی شخص کے حوالے کیا گیا تھا۔

اسماعیل ابراہیم نے بتایا کہ منگل کو چھاپہ مارکر دونوں بچیوں کو بازیاب کروا لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے جرگے کے نام پر یہ فیصلہ کیا ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں