یکم مئی سے امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے گی

پاکستان امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں یکم مئی سے پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت 'جوابی طور پر محدود' کردی جائے گی اور وہ اپنے تعینات کردہ مقام سے 40 کلو میٹر کی حدود میں رہیں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو سرکاری طور پر اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

وائس آف امریکہ ازبک سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کے سیاسی امور کے لیے انڈر سیکریٹری آف سٹیٹ (نائب وزیرِ خارجہ) تھامس شینن کا کہنا تھا کہ 'امریکہ یہ سب اس لیے کر رہا ہے کیونکہ پاکستان میں امریکی سفارتکاروں کو اسلام اباد کی جانب سے پہلے ہی اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے۔'

مزید پڑھیئے

’سفارتکار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بارے میں فیصلہ کریں‘

طالب علم کی ہلاکت پر امریکی سفیر سے احتجاج

امریکی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتکاری میں اس طرح کے اقدامات 'معمول کی بات' ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو اپنے مقام سے دور سفر کرنے سے قبل پاکستان کی حکومت کو مطلع کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا ہے کہ 'پاکستان میں امریکی سفارتکاروں اور شہریوں کو طویل عرصے سے نقل و حرکت پر پابندیوں کا سامنا ہے'۔

دوسری جانب پاکستان کے ایک وفاقی وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِ اعظم سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر ردعمل دیا جائے گا۔

پاکستان میں مقامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کو اطلاع دی گئی ہے کہ یکم مئی سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے اور دیگر شہروں میں موجود قونصلیٹ کا عملہ بغیر اجازت کے 40 کلو میٹر سے باہر سفر نہیں کر سکے گا۔

جبکہ سفارتکاروں کو 40 کلو میٹر کی حدود سے زیادہ سفر کرنے کے لیے کم از کم 5 روز قبل درخواست دینا ضروری ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISLAMABAD POLICE
Image caption سات اپریل کو امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی جوزف امانوئل نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں موجود امریکی سفارتکاروں کو قبائلی علاقوں، بلوچستان یا کراچی میں جانے کی اجازت نہیں ہے، تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ سب پابندیاں نہیں ہیں بلکہ امریکی سفارتکاروں کو تحفظ دینے کے لیے سکیورٹی اقدامات ہیں۔

امریکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات افغان جنگ اور پاکستان پر عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دینے کے الزام کے بعد کشیدہ ہیں۔

اس سے پہلے سات اپریل کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی جوزف امانوئل نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

پاکستانی حکام نے واقعے پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔

ادھر امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چودھری نے امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان مل کر کام کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں ہر سطح پر تعاون میں تسلسل کی ضرورت ہے۔'

متعلقہ عنوانات