اسلام آباد کے نئے ایئرپورٹ سے اب کمرشل پروازیں 3 مئی کو شروع ہوں گی

پاکستان میں ہوابازی کے نگراں ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اسلام آباد کے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے کمرشل آپریشن کے آغاز کی نئی تاریخ دے دی ہے۔ پہلے یہ ہوائی اڈہ جمعہ 20 اپریل کو کھلنا تھا مگر اب نئی تاریخ کے مطابق تین مئی کو یہاں سے کمرشل پروازوں کا آغاز ہو گا۔

یاد رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس سے قبل جاری کیے گئے نوٹس میں اعلان کیا تھا کہ نیا ہوائی اڈہ 16 اپریل سے آپریشنل ہو گا جسے بعد میں تبدیل کر کے بیس اپریل کی تاریخ رکھی گئی تھی۔

بدھ 18 اپریل کی دوپہر تک سول ایوی ایشن اور ایئرلائنز کے مختلف اہلکار اس بات پر مُصر تھے کہ ہوائی اڈہ 20 اپریل کو ہی کھلے گا مگر دوپہر کو نئے نوٹس کے اجرا کے بعد صورتحال اچانک سے بدل گئی۔

نئے ہوائی اڈے کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

پاکستان کے جدید ترین ہوائی اڈے کی خاص بات کیا ہے؟

’اسلام آباد نیو ایئرپورٹ پر آلات کی ٹیسٹنگ کا آغاز‘

اسلام آباد: نیا ایئرپورٹ مکمل، لیکن نام کیا رکھیں؟

سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن عرفان الٰہی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'پہلے ہوائی اڈے کے افتتاح کی تاریخ یکم مئی کو دی گئی تھی۔ اس وقت خیال یہ تھا کہ 20 اپریل کو ائیر پورٹ کھل جائے گا اور دس دن تک آپریشنل رہنے کے بعد اس کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔

مختلف سٹیک ہولڈرز سے بات کرنے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بجائے ہوائی اڈہ کو آپریشنل کر کے افتتاح کیا جائے، ائیر پورٹ کا آغاز ہی تین مئی سے کیا جائے تاکہ مزید آزمائشی مراحل مکمل ہو سکیں۔'

یاد رہے کہ گذشتہ ایک مہینے سے ہوائی اڈے پر مختلف مشینوں اور نظام کے تجربات جاری ہیں جن میں سے ایک کے دوران پانی کی ایک پائپ لائن پر زیادہ پریشر ڈلنے سے پائپ لائن پھٹ گئی جسے بعد میں درست کیا گیا۔

اس کے علاوہ سول ایوی ایشن اور مقامی ایئرلائنز کے مختلف اہلکاروں سے بات کرنے کے نتیجے میں پتا چلا کہ ایئرلائنز اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنیاں تیار نہیں ہیں۔

کچھ دن قبل ایک نجی ایئرلائن کے عملے کی خواتین کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ شکوہ کر رہی تھیں کہ 'ایئرلائن کی جانب سے نئے ایئرپورٹ پر اُن کی ٹرانسپورٹ بند کی جا رہی ہے، ان کے کام کے اوقات بھی بڑھائے جا رہے ہیں اور ان کی تنخواہیں بھی نہیں بڑھائی جا رہی ہیں۔'

اسی طرح آج نئے ہوائی اڈے پر موجود مختلف ایئرلائنز اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنیوں کے اہلکاروں نے اس بات کا ڈھکے چھپے الفاظ میں اظہار کیا کہ انہیں مزید وقت درکار ہے۔

اس فیصلے سے کیا اثر پڑے گا؟

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اس فیصلے کے نتیجے میں سب سے پہلا اثر تو مسافروں پر پڑے گا کیونکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے آج مختلف قومی اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے نئے ہوائی اڈے پر پروازوں کے شیڈول کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے لوگ سوشل میڈیا پر یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر ان کی پرواز 20 اپریل کو ہے تو وہ کہاں جائیں؟

آج بی بی سی اردو کے فیس بُک لائیو میں بھی یہی سوالات قارئین کی جانب سے کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIA

مختلف ایئرلائنز جن میں متحدہ عرب امارات کی ایمیرٹس اور اتحاد ائیر لائنز، سعودیہ، پی آئی اے، ترکش ایئرلائنز اور کویت ایئر ویز اپنے مسافروں کو بتا چکی ہیں کہ ان کی کون سی پرواز نئے ہوائی اڈے پر آئے گی۔

ان تمام مسافروں کو بروقت معلومات دینا اور بدنظمی سے بچنا سول ایوی ایشن کے لیے چیلنج ہو گا۔ اس کے علاوہ ایئرلائنز اپنا سامان اور عملہ جزوی طور پر منتقل کر چکی ہیں یا کر رہی ہیں اور ان کے لیے واپس جانا اور از سر نو انتظامات کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔

پی آئی اے نے 20 اپریل کے لیے پہلی پرواز پی کے 300 کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے لیکن اب اس تاریخ کی تبدیلی کے بعد وہ کچھ زیادہ خوش نہیں ہوں گے۔

سب سے بڑا سوال ابھی بھی یہ ہے کہ کیا تین تاریخ ہی وہ تاریخ ہوگی؟

اسی بارے میں