’زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘

عظمٰی کا خط
Image caption میرا بیٹا دس مہینے کا ہو گیا ہے اور اس نے اب تک اپنے والد کو نہیں دیکھا: عظمٰی

عظمٰی حیدر کو اپنے خاوند کے لاپتہ ہونے کی اطلاع فون کے ذریعے 15 نومبر سنہ 2016 کو موصول ہوئی تھی۔ یہ فون کال ان کو ایک سکیورٹی اہلکارکی جانب سے آئی تھی جس میں ان کو بتایا گیا کہ ان کے خاوند نعیم حیدر کو کراچی کے علاقے گولیمار سے حراست میں لیا گیا لیکن وہ کس کی حراست میں ہیں اور کون انھیں لے گیا ہے؟ یہ پوچھنے کا جب خیال آیا تب تک فون بند ہو چکا تھا۔

اس کے بعد نہ ہی اس شخص کا دوبارہ فون آیا اور نہ ہی کئی بار نمبر ملانے پر کسی نے فون اٹھایا۔ کچھ دن بعد وہ نمبر بھی بند ہو گیا۔

عظمیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ نعیم گمشدہ ہونے سے دو دن پہلے کربلا کی زیارات سے واپس آئے تھے۔ ’ہم 22 دن کے لیے بچوں کے ساتھ ایران، شام اور عراق میں موجود زیارت پر گئے تھے۔ واپس آنے کے دو دن بعد ہی نعیم لاپتہ ہو گئے لیکن ہمیں فون کے ذریعے بتایا گیا کہ ان کو لے جایا جا رہا ہے۔‘

میری عظمیٰ سے ملاقات ان کی ایک ہمسائے کے گھر رضویہ سوسائٹی میں ہوئی جہاں حال ہی میں شروع ہونے والی خط مہم (لیٹر کیمپین) سے متعلق بات چیت چل رہی تھی۔

کراچی میں اب تک جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے کئی مہمات چلائی جا چکی ہیں۔ ان میں دستخط اور جیل بھرو تحریک بھی شامل ہیں۔

اس بار گمشدہ افراد کے خاندانوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کا سوچا ہے۔ یہ مہم پاسبانِ عزا تنظیم کے ماتحت نو اپریل سے 22 اپریل تک جاری رہے گی جس میں کراچی بھر سے گمشدہ افراد کے لواحقین چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو خط لکھ کر بھیجیں گے۔

عظمیٰ کے خیال میں ’اس سے کچھ تو ہو گا، مجھے لگتا ہے کہ اس بات کا نوٹس اگر چیف جسٹس لیں گے تو کچھ فرق پڑے گا۔‘

مزید پڑھیے

’جائز آئینی حق کے لیے اسلام آباد تک مارچ کر سکتے ہیں‘

جبری گمشدگیاں: ’700 کیس زیر التوا، مزید سینکڑوں کی اطلاع‘

’جنگل کے قانون سے پاکستان آگے نہیں چل سکتا‘

’گمشدگیوں کا دور اور انسانی حقوق کا سوال‘

عظمیٰ جس ہمسائے کے گھر ’خط لکھو مہم ‘کا حصہ بننے آئیں ان کے اپنے بھائی شیراز حیدر پچھلے ڈیڑھ سال سے غائب ہیں۔

عظمٰی نے اپنا خط لکھ کر رکھتے ہوئے کہا ’میرا بیٹا دس مہینے کا ہو گیا ہے اور اس نے اب تک اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ میرے لیے اس وقت یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ نعیم کس حالت میں ہیں؟ تب تک اس قسم کی جتنی تحریکیں یا مہم چلیں گی میں اس میں شامل ہوں گی۔‘

اس گھر میں آئے ہوئے سب افراد کی ایک جیسی کہانیاں ہیں، جن میں ان کے رشتہ داروں کے اٹھائے جانے کے وقت سے لے کر، گاڑی، ان گاڑیوں میں سوار اہلکاروں کے حلیے، سب ملتے جلتے ہیں لیکن اس کے باوجود جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ جو گمشدہ ہیں وہ کہاں ہیں اور کب تک واپس آئیں گے؟

پاسبانِ عزا کے صدر اور انسانی حقوق کے کارکن راشد رضوی کے مطابق اب تک کراچی سے 28 شیعہ نوجوان جبری طور پر اٹھائے گئے ہیں اور ملک بھر سے 140 لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کے اداروں کی مدد سے یکجا کیے گئے ہیں جیسے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ جبری طور پر گمشدہ افراد کی تعداد اس سے زیادہ ہے کیونکہ کئی معاملات میں گمشدہ کیے گئے افراد کے لواحقین منظرِ عام پر نہیں آتے ہیں۔

اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے گھروں سے خط لکھ کر جمع کیے تاکہ جو افراد ان کے ساتھ ہیں ان کے لیے مشکل نہ بن جائے۔

راشد رضوی کے بقول ’ہمارے کئی دھرنوں اور احتجاجوں میں سکیورٹی اہلکاروں نے کہا ہے کہ ان نوجوانوں کو اٹھانے کی وجہ دراصل ان کی عزاداری کے ذریعے شام اور عراق کی جنگوں میں شمولیت ہے لیکن اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ ہمارے نوجوان کوئی جنگ لڑنے یہاں سے گئے ہیں۔‘

نیشنل کرائسز مینیجمنٹ سیل نے اگست 2016 میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تقریباً 650 پاکستانی افراد مختلف جنگوں میں حصہ لینے پاکستان سے شام، عراق، افغانستان اور یمن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گمشدہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ زیارات کا جنگی مقامات پر ہونے کی وجہ سے وہاں جانے والے نوجوانوں کو اٹھایا جاتا ہے اور تفتیش کا نشانہ بنایا جاتا ہے (فائل فوٹو)

اسی ادارے سے منسلک ایک افسر نے اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ’اس طرح کے لوگوں کے لیے معاشرے میں دوبارہ شامل ہونا مشکل ہو جاتا ہے اور ایسے افراد معاشرے کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ ان افراد کی معاشرے میں شمولیت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

لیکن جب نیشنل کاؤنٹر ٹیریزم اتھارٹی (نیکٹا) میں ضم ہو گیا تب ایک نئے سرے سے دہشت گردی کے مقدمات کی جانچ پڑتال کا آغاز کیا گیاـ

اس بارے میں بات کرتے ہوئے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر احسان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ادارہ چاہتا تھا کہ ان کے پاس اس قسم کی خبروں کو جانچنے کے لیے کوئی رسپانس ٹیم ہو جو اب ممکن ہو گیا ہےـ

’ہم نے ملک سے باہر جنگی مقامات پر جانے والے افراد کی وجوہات جانچنے کے لیے ایک رسپانس ٹیم تشکیل دی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، انٹیلیجنس ایجنسی، پاسپورٹ اور امیگریشن کے اہلکار شامل ہیں، اس سے ہم پاکستان سے باہر جانے والے یا پھر جنگی مقامات پر جانے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے تاکہ ان کی کل تعداد معلوم ہو سکے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکیں گے کہ ان کی وطن واپسی پر ان کو معاشرے میں واپس کیسے شامل کیا جائے کیونکہ ان کے لیے وطن واپسی کا مرحلہ سب سے مشکل ہوتا ہےـ‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت رسپانس ٹیم کی رپورٹ تشکیل نہیں دی جا سکی جس کی وجہ سے اس سال کے درست اعداد و شمار دینا مشکل ہو گا۔

دوسری طرف گمشدہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ زیارات کے جنگی مقامات پر ہونے کی وجہ سے وہاں جانے والے نوجوانوں کو اٹھا کر تفتیش کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

شمیم حیدر کی بہن غزالہ حیدر نے کہا ’میرا بھائی کسی جنگ پر نہیں گیا تھا اور نہ ہی جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ اپنے ایم بی اے کی تیاری میں مصروف تھا اور اس کے علاوہ کوئی اور بات اس نے گھر میں نہیں کی۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا ’اگر کوئی کسی بھی جرم میں ملوث ہے تو اس کو عدالت میں پیش کیا جائے اور جرم ثابت ہونے پر سزا دی جائے۔ اس طرح غائب کرنا قانوناً غلط ہے۔‘

راشد رضوی نے بتایا ’جو گمشدہ افراد واپس آئے ہیں ان میں سے بیشتر کا یہی کہنا ہے کہ ان کو شام اور عراق جانے کی وجہ سے یا وہاں سے زیارت کر کے واپس آنے پر اٹھایا گیا تھاـ ہماری زیارت ہمارے لیے مقدس ہے اور ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہاں جانے میں کیا برائی ہے؟‘

اس بارے میں جب رینجرز اور فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا تو انھوں نے یہ کہہ کر جواب دینے سے انکار کردیا کہ انھیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے ’اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں، اس لیے بات نہیں کی جا سکتی۔‘

جبری طور پر گمشدہ افراد کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا زیادہ تر یہی جواب رہا ہےـ

اس سے پہلے بھی گمشدہ افراد کے کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے طلب کیے جانے پر بھی قانون نافذ کر ے والے ادارے عدالت میں نہیں پیش ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں