آسیہ بی بی کیس: وکیل کی سکیورٹی بحال، کیس کی سماعت جلد متوقع

Image caption سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں آسیہ بی بی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں

پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ جلد توہینِ رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل کو سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرے گی۔

سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں سنیچر کے روز انسانی حقوق سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے جہاں آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کی واپس لی جانے والی سکیورٹی بحال کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ جلد آسیہ بی بی کے سزا کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کا بینچ تشکیل دیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے بتایا کہ وہ عدالت میں موجود تھے اور چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔

’چیف جسٹس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیف تیار ہو جاؤ ہم جلد ہی اپیل پر بنچ بنانے جا رہے ہیں اور اس کی سربراہی میں خود کروں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ان کے لیے غیر متوقع تاہم انتہائی خوش گوار تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سے دو ہفتہ کے عرصے میں سماعت کے لیے وقت مقرر ہونے کے امکانات ہیں۔

آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے مزید جانیے

سپریم کورٹ کے جسٹس اقبال حمید الرحمان مستعفی

آسیہ بی بی کی اپیل پر سماعت اگلے ہفتے

صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی کو توہینِ رسالت کے ایک مقدمے میں سنہ 2010 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سزا کے خلاف ان کی کئی اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں جبکہ گذشتہ برس سپریم کورٹ میں ان کی اپیل پر سماعت کرنے والا تین رکنی بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

بنچ کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کر رہے تھے جبکہ اس میں شامل جسٹس حمید الرحمٰن بینچ سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے آسیہ بی بی اپیل پر سماعت مقرر ہونے کی منتظر ہیں۔

سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں آسیہ بی بی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ آسیہ بی بی کے مقدمہ پر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی نظریں مرکوز ہیں۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پر صوبہ بھر میں مختلف افراد کی ذاتی حفاظت پر مامور سرکاری سکیورٹی واپس لے لی گئ تھی جن میں سیف الملوک بھی شامل تھے۔

تاہم سیف الملوک نے عدالت میں پیش ہو کر ان کی ذات کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر ان کی سیکیورٹی بحال کرنے کی استدعا کی تھی جسے قبول کر لیا گیا۔

’چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ سیف الملوک کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور یہ کہ اگر کوئی سکیورٹی دیئے جانے کا مستحق ہے تو وہ ہیں۔‘

اسی بارے میں