کوئٹہ: فائرنگ سے ہزارہ قبیلے کے دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے اور ان پر تازہ حملے میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا گیا ہے۔

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین افراد پر یہ حملہ ہزارہ ٹاؤن کے قریب مغربی بائی پاس کے علاقے میں کیا گیا۔

بروری پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین افراد دو موٹر سائیکلوں پر مغربی بائی پاس سے گزر رہے تھے۔

بلوچستان: ’16 برسوں میں 525 ہزارہ افراد ہلاک ہوئے‘

کوئٹہ: فائرنگ میں تین شیعہ ہزارہ سمیت پانچ افراد ہلاک

علمدار روڈ پر ہزارہ برادری کے دھرنے کا چوتھا روز

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا جس میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

زخمی ہونے والا فرد پولیس کا اہلکار تھا جو کہ سادہ لباس میں تھا۔

رواں ماہ کے دوران ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر یہ دوسرا جبکہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر تیسرا حملہ ہے۔

تین روز قبل عبد الستار روڈ پر ایک تاجر کو مار دیا گیا تھا۔

اس سے قبل یکم اپریل کو شہر کے مصروف ترین علاقے قندہاری بازار میں ایک ٹیکسی حملے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔

اس واقعہ کے خلاف علمدار روڈ پر ایک ہفتے سے زائد عرصہ تک دھرنا بھی دیا گیا تھا۔

بلوچستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے بعد سے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

گذشتہ ماہ حکومتی سطح پر قائم قومی کمیشن برائے حقوق انسانی نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق جو رپورٹ جاری کی تھی اس کے مطابق گذشتہ 16 سالوں کے دوران قبیلے کے 525 افراد ہلاک اور 734 زخمی ہوئے ہیں۔

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ اب بھی جاری ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے باعث پہلے کے مقابلے میں ان حملوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں