ملک میں جو ہو رہا ہے وہ جوڈیشل مارشل لا سے کم نہیں ہے: نواز شریف

Image caption سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر تنقید کی

سابق نااہل وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی 'بدترین ڈکٹیٹر شپ' ہے۔

پیر کے روز احتساب عدالت کے اندر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ملک میں جو ہو رہا ہے وہ 'جوڈیشل مارشل لا سے کم نہیں ہے۔‘

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام کی زباں بندی کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں جاری کارروائی کے بارے میں مزید پڑھیے

’واجد ضیا پہلے کچھ کہتے ہیں پھر تبدیلیاں کر دیتے ہیں‘

نواز شریف، مریم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

’والیم ٹین کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں‘

نواز شریف اور مریم کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست

اُنھوں نے کہا کہ اتنی پابندیاں دور آمریت میں نہیں لگائی گئیں جو اب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئے روز ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں اُنھیں سزا دلوانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں کو سرخرو کیا جا سکے جنھوں نے نواز شریف کو نااہل اور ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں اب کوئی دم خم نہیں ہے اور فیصلے اگلی پارلیمنٹ میں ہوں گے۔

نواز شریف نے صحافیوں کے ساتھ چیف جسٹس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہسپتال کا روزانہ دورہ کرتے ہیں اور سبزیوں کے بھاؤ کے بارے میں از خود نوٹس لیتے ہیں تو اس شخص کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ گذشتہ 30 برسوں سے نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ چیف جسٹس اپنی بات کہہ دیتے ہیں اور جب کوئی دوسرا بات کرنا چاہے تو اس کے بولنے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں۔

اہم شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی وضاحت

دوسری طرف سپریم کورٹ نے چند روز قبل اہم شخصیات کی سکیورٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو واپس بلانے کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ جن شخصیات کی جان کو خطرہ ہے ان کو قانون کے مطابق سکیورٹی اہلکار فراہم کیے جائیں۔

از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سابق وزیر اعظم ہیں اور قانون کے مطابق ان کو جو سکیورٹی ملنی چاہیے وہ فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر سابق وزیر اعظم سمیت ملک بھر سے سینکٹروں افراد کی سکیورٹی کے لیے تعینات ہزاروں پولیس اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ 'اگر ان کے والد کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پر ہو گی۔'

اسی بارے میں