’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، غصے میں بھی ہے تو ہم انھیں سنیں گے‘

کورکمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے احکامات کی روشنی میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے مذاکرات کے لیے ایک جرگہ بنا لیا گیا ہے جس نے منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ان کے مطابق اس جرگہ میں سیاستدان اور بااثر قبائلی مشران شامل ہیں۔

منگل کو کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ ’منظور پشتین کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات آئین اور قانون کی روشنی میں حل کیے جا رہے ہیں‘۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق کور کمانڈر نے کہا کہ ’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، اس نے آرمی پبلک سکول سے تعلیم حاصل کی ہے لیکن اگر وہ غصے میں بھی ہے تو ہم انہیں سنیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم: مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

’کہا جاتا تھا ایسی باتیں آپ کو صرف موت دے سکتی ہیں‘

’منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب۔۔۔‘

کور کمانڈر پشاور نے مزید کہا ’پی ٹی ایم سے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے جبکہ منظور پشتین کی سول و فوجی حکام سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’منظور پشتین میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہے‘۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاپتہ افراد ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جسے حل ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے گذشتہ اتوار کو لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے ایک 'ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن‘ یعنی (حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

منظور پشتین 12 مئی کو کراچی میں جلسے کی کال بھی دے چکے ہیں۔

پی ٹی ایم کا ردعمل

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما محسن داور نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ ابھی تک انہیں کسی اہلکار کی جانب سے مذاکرات کا کوئی پیغام نہیں ملا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ماضی میں بھی مسئلے حل کیے جاتے رہے ہیں۔

محسن داور کے مطابق پی ٹی ایم پشتونوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ 'ہم پی ٹی ایم کے مطالبات کے متعلق تمام فریقوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ابھی تک مذاکرات کی شرائط سے متعلق کوئی پیغام پی ٹی ایم کے رہنماؤں تک نہیں پہنچا ہے۔'

محسن داور کے مطابق مذاکرات شروع ہونے سے جلسوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا کیوں ان عوامی جلسوں کے ذریعے حامیوں سے ملنے میں کوئی بری بات نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'مذاکرات اور عوامی جلسوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم منصوبے کے مطابق سوات اور کراچی میں جلسے کریں گے۔'

’فاٹا میں کسی بھی مقام پر کوئی خطرہ موجود نہیں‘

قبائلی علاقوں میں امن و امان سے متعلق بات کرتے ہوئے کور کمانڈر نے کہا کہ ’فاٹا میں کسی بھی مقام پر کوئی خطرہ موجود نہیں، البتہ صرف پاکستان اور افغانستان کے مابین بین الاقوامی سرحد پر کسی حد تک خطرہ موجود ہے اور افغانستان میں موجود بعض غیر ملکی ایجنسیاں ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا سارا فوکس اس وقت دونوں ممالک کے مابین بارڈر منیجمنٹ پر ہے اور اب تک 147 قلعہ نما چیک پوسٹیں قائم کی جا چکی ہیں جبکہ 21 تکمیل کے مراحل میں ہیں اور سرحد پر خاردار تاریں لگانے کا کام بھی پوری تیزی سے جاری ہے‘۔

افغانستان کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹوں کے قیام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے کچھ سرحدی چوکیاں بنائی بھی تھیں جس میں سے کچھ ختم ہو گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا 62 فیصد کام ہو چکا ہے۔

کور کمانڈر نذیر احمد بٹ کے مطابق فاٹا میں جون 2018 تک 30 فیصد چیک پوسٹیں ختم ہو جائیں گی جبکہ صوبے کا حصہ بننے کے بعد وہاں کی پہاڑی پوسٹیں اپنے پاس رکھ کر تمام شہری چوکیاں سول اداروں کے حوالے کر دی جائیں گی۔

طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک دہشت گرد ہے جس کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے اور اگر وہ سرنڈر بھی کریں تب بھی اس کے بارے میں فیصلہ حکومت اور پارلیمینٹ کرے گی‘۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی معلومات سے بہت فائدہ ہوا ہے لیکن وہ پھر بھی قاتل ہے، اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں