ثنا چیمہ کی موت طبعی تھی یا قتل، بدھ کو قبر کشائی کی جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ Social Media
Image caption پولیس کے مطابق ثنا چیمہ نامی لڑکی جو اٹلی کی شہریت رکھتی تھیں اور پاکستان میں گجرات کے علاقے منگوال کی رہائشی تھیں، کی موت رواں ماہ کی 18 تاریخ کو واقع ہوئی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں حال ہی میں ایک 26 سالہ پاکستانی نژاد اطالوی لڑکی کی موت اور اس کے لواحقین کی جانب سے مبینہ طور پر عجلت میں تدفین کے معاملے پر مقامی پولیس قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق ثنا چیمہ نامی لڑکی اٹلی کی شہریت رکھتی تھیں اور پاکستان میں گجرات کے علاقے منگوال کی رہائشی تھیں۔ ان کی موت رواں ماہ کی 18 تاریخ کو واقع ہوئی جس کے اگلے روز ان کے لواحقین نے مبینہ طور پر بغیر اطلاع دیے ان کو مقامی قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔

ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں میں دعوٰی کیا گیا کہ ثنا چیمہ کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا کیونکہ ان کے گھر والے ان کی شادی اپنی پسند سے کرنا چاہتے تھے جبکہ وہ اٹلی میں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔

گجرات میں تھانہ کنجاہ کی پولیس کی درخواست پر عدالت نے ثنا چیمہ کی قبر کشائی کی اجازت دے دی ہے۔ پولیس کے مطابق بدھ کی صبح 7 بجے ان کی قبر کشائی کی جائے گی جس کے بعد پورسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیئے

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

غیرت کے نام پر قتل: جرگے کے حکم پر ملزمان کی رہائی

تین برس میں 2000 سے زیادہ خواتین ’غیرت‘ کے نام پر قتل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر واقعات مرکزی اور جنوبی پنجاب میں پیش آتے ہیں۔

تھانہ کنجاہ کے انچارج اور مقدمہ کے تفتیشی افسر وقار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پورسٹ مارٹم سے یہ پتہ لگانے میں مدد ملے گی کہ ثنا چیمہ کی موت طبعی تھی یا انھیں قتل کیا گیا۔‘

تھانہ کنجاہ میں درج رپورٹ کے مطابق ثنا چیمہ کی پر اسرار تدفین کے بعد سوشل میڈیا پر خبریں گردش کرنے لگیں کہ انھیں مبینہ طور ان کے والد نے اپنے بیٹے اور بھائی کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے۔

ان اطلاعات پر پولیس کی مدعیت میں تینوں افراد پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش کا آغاز کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ان الزامات کی تصدیق یا تردید کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں جبکہ ثنا چیمہ کی قبر پر پولیس کا پہرا لگا دیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر وقار احمد کا کہنا تھا کہ مقتولہ کے والد اور چچا کو شاملِ تفیش کر لیا گیا ہے۔ تاہم لڑکی کا بھائی تاحال فرار ہے۔

پولیس کے مطابق ثنا چیمہ اٹلی میں ایک سکول چلاتی تھیں۔ وہ دو ماہ قبل پاکستان آئیں تھیں اور ان کی موت سے ایک روز بعد یعنی 19 اپریل کو انھوں نے اپنے بھائی عدنان کے ہمراہ واپس اٹلی جانا تھا۔

گھر والوں کا موقف کیا ہے؟

تھانہ کنجاہ کے انچارج وقار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ثنا چیمہ کے والد غلام مصطفیٰ اور چچا مظہر اقبال نے ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ ’ثنا چیمہ اکثر بیمار رہتی تھیں اور اسی سے ان کی موت واقع ہوئی‘۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ رواں ماہ کی 11 تاریخ کو ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انھیں ہسپتال لے جایا گیا تاہم 18 تاریخ کو ان کی طبیعت بگڑی تو وہ ہسپتال کے راستے میں دم توڑ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثنا چیمہ معدے اور پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار تھیں۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ثنا چیمہ اٹلی ہی میں کامران نامی ایک پاکستانی نژاد شخص سے شادی کی خواہش مند تھیں تاہم اس پر ان کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔

پولیس کے مطابق کامران بھی پاکستان آیا ہوا تھا اور گزشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو واپس اٹلی چلا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ثنا کی موت کے بارے میں سوشل میڈیا پر خبریں کامران ہی کے ذریعے سامنے آئیں۔

تاہم وقار احمد کا کہنا تھا کہ لڑکی کے والد اور چچا نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ انھوں نے ثنا چیمہ کو اجازت دے دی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر لیں تاہم کامران ان کے کئی بار کے اصرار کے باوجود ٹال مٹول کر رہا تھا۔

ان کے مطابق انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی سے اٹلی میں شادی شدہ تھا۔

انھوں نے پولیس کو مزید بتایا کہ ثنا چیمہ اس بات سے آگاہ تھیں اور انھوں نے ماں باپ کی مرضی سے شادی کرنے پر آمادگی ظاہر کر رکھی تھی جس کے بعد ان کے لیے رشتے آنے کا سلسلہ جاری تھا۔

ثنا چیمہ کی پُراسرار ہلاکت کی خبر اٹلی میں بھی مقامی ذرائغ ابلاغ پر سامنے آئی جس پر اٹلی کے حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں اٹلی کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ ثنا چیمہ کی موت کی خبر سے آگاہ ہیں اور اس کی تحقیقات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس بارے میں تفصیلی بیان ذرائع ابلاغ کو جاری کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں