’نالج از بلٹ پروف‘: کتاب جو گولی کو روکتی ہے اور پیغام دیتی ہے کہ علم کو روکا نہیں جا سکتا

بلٹ پروف کتاب تصویر کے کاپی رائٹ SOC Outreach and BBDO
Image caption کتاب کی ابتدائی طور پر ایک ہزار کاپیاں شائع کی گئی ہیں

پاکستان میں ایک ایسی کتاب شائع کی گئی ہے جو بلٹ پروف ہے۔ ’نالج از بلٹ پروف‘ نامی یہ کتاب اپنے نام کی طرح ایک ایسی کتاب ہے جس پر گولی اثر نہیں کر سکتی۔

اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اگر ’آپ کے پاس علم ہے تو آپ دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘

اس کتاب کو غیرسرکاری تنظیم ایس او سی اور بی بی ڈی او کے اشتراک سے کتب بینی کے عالمی دن کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان میں شدت پسند حلقوں کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انھیں تعلیم جیسا بنیادی حق دلوانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اب ایک ایسی ہی مہم کے تحت اِس بلٹ پروف کتاب کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

شازیہ اور کائنات تصویر کے کاپی رائٹ SOC Outreach and BBDO
Image caption ملالہ کے ساتھ وین میں شازیہ اور کائنات بھی تھیں

’نالج از بلٹ پروف‘ کتاب کی مصنفہ صنم مہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا تصور یہ ہے کہ اگر آپ خواتین کو تعلیم فراہم کریں تو یہ ان کے رتبے کو بہت مضبوط کر دیتا ہے اور جب آپ کے پاس علم ہے تو یہ بلٹ پروف ہے کیونکہ اس کو کسی طور بھی بدلہ نہیں جا سکتا ہے۔

صنم مہر کے بقول اس کتاب کا مقصد شمالی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

’نالج از بلٹ پروف‘ نامی یہ کتاب شازیہ رمضان اور کائنات ریاض کے بارے میں ہے جو 2012 میں اس وین میں موجود تھیں جب ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہوا تھا۔

بی بی ڈی او کی دلچسپی تھی کہ ان دونوں لڑکیوں کی کہانیوں کو سامنے لایا جائے کہ کس طرح سے یہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ان لوگوں کو بتانا جو ان کے بارے میں نہیں جانتے ہیں کیونکہ ان دونوں لڑکیوں نے مینگورہ میں رہنے کی بہت کوشش کی اور انھیں وہاں دھمکیاں ملتی رہیں۔

بلٹ پروف کتاب تصویر کے کاپی رائٹ SOC Outreach and BBDO
Image caption کتاب کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے

’جب حملہ ہوا تھا تو اس وقت دونوں لڑکیاں وین میں تھیں اور ان کے انٹرویوز بھی کیے گئے تھے لیکن اس کے بعد اندازہ نہیں ہو سکا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا اور کس طرح سے دھمکیوں کے باوجود انھوں نے مشکل حالات میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔

صنم مہر کے مطابق اس واقعے کی مرکزی شخصیت ملالہ پر ہی سب کی توجہ رہتی ہے لیکن اگر اس سے تھوڑا الگ کر کے دیکھیں کہ عینی شاہدین اور ان لڑکیوں کی کیا کہانی تھی اور وہ کن حالات سے گزری اور کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بلٹ پروف کتاب تصویر کے کاپی رائٹ SOC Outreach and BBDO
Image caption کتاب کے بلٹ پروف کور کو ٹیسٹ بھی کیا گیا

کتاب کی فوٹوگرافر انسیا سید نے بتایا کہ’ لڑکیوں کو جس طرح سے ہدف بنایا گیا تو اس پوری کہانی میں ایک بیان کے طور پر یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اس کا فرنٹ اور بیک کور بلٹ پروف ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر آپ کے پاس علم ہے تو آپ زندگی میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘

انسیا سید نے کہا کہ کتاب کو بلٹ پروف بنانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آئے تو آپ کتاب کو اپنی سکیورٹی کے طور پر پیش کریں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ علم کو دبایا اور روکا نہیں جا سکتا۔ کوئی بھی تعلیم یافتہ شخص کے راستے میں نہیں آ سکتا۔ کیونکہ تعلیم آپ کے دماغ اور شخصیت کو اتنی کشادگی دیتی ہے کہ یہ آپ کا ہتھیار بن جاتی ہے۔

کتاب کو بلٹ پروف بنانے میں کیا مواد استعمال کیا گیا

بلٹ پروف کتاب تصویر کے کاپی رائٹ SOC Outreach and BBDO
Image caption کتاب کی جلد سے گولی پار نہیں ہو سکتی

انسیا سید نے بتایا کہ اس میں کپڑے سے ملتے جلتے بلٹ پروف مواد کیولار کی متعدد تہوں کو ملا کر فرنٹ اور بیک جلد کو بنایا گیا۔ اس کتاب میں فونٹ کا رنگ نیلا ہے کیونکہ سوات جیسے علاقوں میں لڑکیوں کے سکولوں میں یونیفام کا رنگ نیلا ہے اور اس کتاب میں شائع کی گئی تصاویر میں نیلے رنگ کا ہی فلٹر استعمال کیا گیا ہے۔

بلٹ پروف کتاب تصویر کے کاپی رائٹ SOC Outreach and BBDO

’نالج از بلٹ پروف‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو شمالی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا بلخصوص ان علاقوں میں جہاں طالبان کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ اس کتاب کی ابتدائی طور پر ایک ہزار کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔

۔

اسی بارے میں