ثنا چیمہ کی موت کی گتھی تاحال سلجھ نہ سکی

ثنا چیمہ

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد اطالوی خاتون کی متنازعہ حالات میں موت کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ پائی۔

ضلع گجرات کے علاقے منگوال کے قریب واقع کوٹ فرید قبرستان میں بدھ کے روز 26 سالہ ثنا چیمہ کی قبر کشائی کی گئی۔

ثنا چیمہ کی موت طبعی یا قتل، قبر کشائی کی جائے گی

علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کے بعد موقع پر پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹروں کی چار رکنی ٹیم کی نمائندہ ڈاکٹر کومل اسحاق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ خاتون کی لاش اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ اس پر کوئی ظاہری علامات دیکھنا ممکن نہیں تھا۔

’تاہم ہم نے اس سے حاصل کردہ نمونے تجزیے کے لیے لاہور کی لیبارٹری بھجوا دیے ہیں جس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ثنا چیمہ کی موت کی وجہ کا صحیح تعین ممکن ہو پائے گا۔‘ ان کا کہنا تھا اس رپورٹ کے آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ پولیس کے مطابق ثنا چیمہ کی موت رواں ماہ کی 18 تاریخ کو ہوئی تھی۔ اس کے ایک روز بعد انہیں اٹلی کے لیے واپس جانا تھا۔ پورسٹ مارٹم سے قبل ان کی لاش تقریباً آٹھ روز قبر میں رہی۔

میڈیکل رپورٹ کیوں اہم ہے؟

گجرات سرکل کے ایس ڈی پی او عرفان الحق سلہریا نے بی بی سی کو بتایا کہ پورسٹ مارٹم کی رپورٹ کسی بھی قتل کے تفتیش میں اہم ترین ثبوت ہوتا ہے۔

’جب ان خاتون کی رپورٹ سامنے آئے گی تب ہی حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا یا ان کی موت طبعی تھی۔‘

تاہم علاقہ کے تھانہ کنجاہ کے انچارج وقار گجر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو گلا گھونٹ کر یا سانس دبا کر بھی قتل کیا گیا ہو تو کیمیائی تجزیے کے ذریعے اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے لہٰذا اگر اس قسم کی کوئی بات ہوئی تو وہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹ میں چھُپے گی نہیں۔

اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت کی خبر پہلی بار اٹالین میڈیا پر سامنے آئی جس کے بعد گجرات پولیس کی تفتیش کے بعد ان کے والد، بھائی اور چچا کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

وقار گجر کا کہنا تھا کہ تینوں ملزمان کو شاملِ تفتیش کر لیا گیا تھا اور وہ پُر امید تھے کہ ان سے کے جانے والی ابتدائی تفتیش کی روشنی میں اس قدر ثبوت موجود تھے کہ انہیں میڈیکل رپورٹ آنے سے قبل ہی باقاعدہ طور پر گرفتار کیا جا سکتا تھا۔

اطالوی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں میں الزام لگایا گیا تھا کہ تینوں ملزمان نے ملی بھگت سے ثنا چیمہ کو قتل کر دیا تھا کیونکہ وہ ان کی مرضی کے خلاف پاکستان میں نہیں بلکہ اٹلی میں شادی کرنا چاہتی تھیں۔

گجرات سرکل کے ایس ڈی پی او عرفان الحق سلہریا نے بی بی سی کو بتایا کہ اطالوی میڈیا پر سامنے آنے والی خبر کا تراشا موصول ہونے پر انہوں نے اس کا ترجمہ کروایا جس کے بعد ثنا چیمہ کا نام سامنے آیا۔

’اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ چیمہ برادری گجرات میں کن علاقوں میں رہتی ہیں اور اس کی مدد سے ہم ڈھونڈتے ہوئے منگوال میں ثنا چیمہ تک پہنچے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقوع کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ کے سامنے آنے سے قبل حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔ تاہم ضلع گجرات میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے کم از کم 15 واقعات ہو چکے ہیں۔

ثنا چیمہ کون تھیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Social Media

ثنا چیمہ یا ان کی موت کے حوالے سے منگوال میں ان کی رہائش گاہ کے آس پڑوس میں رہنے والے لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم جو چند لوگ بات کرتے ہیں وہ زیادہ تر وہی حقائق بتاتے ہیں جو ثنا کے والد پولیس کو ابتدائی بیان میں بتا چکے ہیں۔

تھانہ کنجاہ کے انچارج وقار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ثنا چیمہ کے والد غلام مصطفٰی نے ابتدائی تفیش کے دوران پولیس کو بتایا ہے کہ ثنا چیمہ اکثر بیمار رہتی تھیں اور اسی سے ان کی موت واقع ہوئی۔

ثنا چیمہ کے پڑوسی رانا نوید بھی تقریباً وہی کہانی دہراتے ہیں۔ ثنا چیمہ کا تین منزلہ آبائی گھر منگوال میں مرکزی شاہراہ پر واقع ہے جس کے عین سامنے ایک نجی ہسپتال بھی واقع ہے جبکہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر پولیس چوکی موجود ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رانا نوید نے بتایا کہ ثنا چیمہ 2002 میں اٹلی چلی گئی تھیں جب ان کے عمر لگ بھگ دس برس تھی۔ وہ وہیں پلی بڑھیں اور حال ہی میں وہاں ایک ڈرائیونگ سکول چلاتی تھیں۔

’وہ دو ماہ قبل پاکستان آئی تھیں اور ان کی موت سے ایک روز بعد یعنی 19 اپریل کو انہوں نے واپس اٹلی جانا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا رواں ماہ کی 11 تاریخ کو ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں گھر کے سامنے واقع نجی ہسپتال لے کر جایا گیا تاہم 18 تاریخ کو ان کی طبیعت دوبارہ بگڑی تو انہیں گجرات کے ہسپتال لے جاتےہوئے وہ دم توڑ گئیں۔

’جس کے بعد ان کے گھر والے انہیں واپس لے کر آئے اور پھر کوٹ فرید میں ان کے آبائی قبرستان میں ان کی تدفین رات کو دس بجے کی گئی۔‘

اسی بارے میں