تاحیات نااہلی کے بعد خواجہ آصف کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ آصف سنہ1993 سے لے کر سنہ2013 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک کے وزیرِ خارجہ اور مسلم لیگ نواز کے سینئیر رہنما خواجہ آصف کو اقامہ رکھنے کے معاملے پر آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے یہ متفقہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن عثمان ڈار کی درخواست پر دیا۔ عثمان ڈار کو 2013 کے انتخابات میں خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہا تھا اور 10 اپریل کو سماعت کی تکمیل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آئین اور عدلیہ کے مطابق صادق اور امین کون؟

’جو صادق اور امین نہیں رہا اس کی نااہلی تاحیات رہے گی‘

توہین عدالت: نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور نااہلی کی سزا

خواجہ آصف کا پاکستان میں بیتابی سے انتظار

خیال رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کرتے ہوئے اس شق کے تحت ہونے والی نااہلی کو تاحیات قرار دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے سنہ2013 میں ہونے والے انتخابات میں کاغذات نامزدگی میں دبئی میں ملازمت کو جان بوجھ کر چھپایا تھا۔

اس فیصلے کے ساتھ خواجہ آصف کے دبئی کی تین مختلف کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی کاپیاں بھی لگائی گئی ہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف کی جانب سے جان بوجھ کر نوکری اور تنخواہ ظاہر نہیں کی گئی۔ اس فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ خواجہ آصف وکیل بھی ہیں اس لیے اُنھیں بخوبی علم ہوگا کہ اُنھوں نے کون سے حقائق کاغذات نامزدگی میں چھپائے ہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف نے کافی عرصے سے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا۔ اس اقدام سے خواجہ آصف سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات میں بھی حصہ لینے کے اہل نہیں تھے۔

اس عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہےخواجہ آصف کے وکیل کی طرف سے یہ دلائل دینا کہ ان کے مؤکل کا اقامہ ملازمت کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لیے ہے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ مزید کہا کہ سیاسی قوتیں اپنے مسائل پارلیمان میں ہی حل کرتی ہیں جبکہ ایک نااہل شخص کیسے پارلیمان کا رکن ہو سکتا ہے۔

تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے معاملے پارلیمنٹ کی بجائے عدالتوں میں ہوں گے تو پھر عدالتیں قانون کے مطابق ہی فیصلہ دیں گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے یہ دعوے ثابت ہوئے ہیں کہ خواجہ آصف اس وقت ایک غیرملکی کمپنی میں کل وقتی ملازم تھے جب ان کے پاس پاکستان کی کابینہ میں اہم عہدے تھے چنانچے اس سے ’مفادات کا ٹکراؤ‘ واضح ہے اور صرف اسی بنا پر ہی انھیں نااہل کیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے ان اقدامات سے خواجہ آصف نے اس حلف سے روگردانی کی جو انھوں نے بطور رکنِ اسمبلی اور وزیر اٹھایا تھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے آخر میں یہ بھی کہا گیا ہے ’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کسی بھی عدالت کے لیے خوشی کا موقع نہیں ہوتا جب کوئی منتخب نمائندہ نااہل ہو۔ جب سیاسی قوتیں سیاسی سطح پر مسئلہ حل کرنے کی بجائے عدالت کا رخ کرتی ہیں تو اس کے اثرات اداروں پر بھی ہوتے ہیں اور عوام پر بھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ teamUDPTI
Image caption عثمان ڈار کو 2013 کے انتخابات میں خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا

فیصلے میں جج صاحبان نے کہا ہے کہ ’ہم نے بھاری دل کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے نہ صرف اس لیے کہ ایک منجھا ہوا سیاستدان نااہل ہوا ہے بلکہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ ووٹروں کی امیدوں اور خوابوں کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں پاکستان الیکشن کمیشن کو خواجہ آصف کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

وزیرِ خارجہ کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ خواجہ آصف نے متحدہ عرب امارات میں اپنے اقامے کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے نامزدگی کے کاغذات میں اس اقامے کا ذکر کیا ہے۔

خیال رہے کہ عثمان ڈار نے اپنی پٹیشن میں یہ بھی کہا تھا کہ گذشتہ سال نواز شریف کو اقامہ رکھنے کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا تھا تو خواجہ آصف کو بھی انھی وجوہات پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دی تھی اور 16 اپریل کو خواجہ آصف نے ابوظہبی کی اس کمپنی کی دستاویزات جمع کروائیں جہاں سے ان کا اقامہ جاری کیا گیا تھا۔

خواجہ آصف کی جانے سے جمع کرائے گئے دستاویز میں کمپنی کی جانب سے خط میں ان کی ملازمت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم کہا گیا تھا ان کی نوکری میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ اس کے لیے خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات میں رہنا پڑے اور کمپنی فون پر ہی ان سے مشورے لی سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption خواجہ آصف نے اپنی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

نااہلی کو چیلنج کرنے کا اعلان

خواجہ آصف نے اپنی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے انھوں نے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

پنجاب کے وزیرِ قانون اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے ایک نجی چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی جانب سے نااہلی کے ان فیصلوں سے ان کی جماعت سیاسی طور پر عوام میں اور زیادہ مقبول ہوتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف، جہانگیر ترین یا دیگر رہنماؤں کی نااہلی اور نواز شریف کی نااہلی میں فرق ہے کیونکہ نواز شریف کے معاملے میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کو بہت وسیع انداز میں استعمال کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے جتھے بازی کی جا رہی ہے۔‘

آئندہ انتخابات کے سلسلے میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اب امیدواروں کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی انتہائی باریک بینی اور احتیاط کے ساتھ بھرنے ہوں گے۔

تیسری بڑی نااہلی

خیال رہے کہ خواجہ آصف حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے وہ تیسرے اہم رہنما ہیں جو عدالت سے نااہل ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق سربراہ نواز شریف کو تاحیات نااہل کر چکی ہے جبکہ توہین عدالت کے معاملے پر نہال ہاشمی کو پانچ برس کی نااہلی کی سزا دی گئی ہے۔

خواجہ آصف سنہ 2013 کے انتخابات میں سیالکوٹ کے حلقہ این اے 110 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ نواز شریف کی کابینہ میں انھیں دفاع اور پانی و بجلی کی وزارتوں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

گذشتہ سال نواز شریف کی پاناما کیس میں نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی تو خواجہ آصف کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ نو ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔

اسی بارے میں