’جی ڈی پی کی شرح کی مناسبت سے قرضوں میں اضافہ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مفتاح اسماعیل نے اقتصادی سروے میں درج اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اس سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 فیصد رہی ہے جو پچھلے تیرہ برس میں سب سے زیادہ ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت کے پانچ سال کے دوران غیر ملکی قرضوں میں ملکی معیشت کے حجم کے تناسب سے کوئی اضافہ نہیں ہوا اور اس بارے میں حزب اختلاف کے رہنماؤں اور بعض اقتصادی ماہرین کے اندازے غلط ہیں۔

حکمران جماعت کی معاشی ٹیم نے یہ دعویٰ جمعرات کے روز رواں مالی سال (2017-2018) کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی کی جائزہ رپورٹ (اکنامک سروے) کے اجرا کے موقع پر کیا۔

مزید پڑھیے

’آئندہ بجٹ میں کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کریں گے‘

وزیر اعظم کی اقتصادی ٹیم، بہترین متبادل حل ہے؟

ملکی معیشت کے اس جائزے میں مختلف شعبوں میں حکومت کی کارکردگی کی تفصیل منصوبہ بندی کمیشن کے سربراہ احسن اقبال اور معاشی امور پر وزیراعظم کے مشیر مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں بیان کی۔

عام طور پر اکنامک سروے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر حکومت کے وزیر خزانہ رواں مالی سال کے اعداد و شمار ہی پیش کرتے ہیں لیکن اس بار حکومت نے پانچ سال کے اعداد و شمار کا موازنہ پیش کیا۔ اس کی وجہ بتاتے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ ان کی حکومت کا آخری معاشی جائزہ ہے اس لیے وہ اسے حکومت کی پانچ سالہ کاکردگی رپورٹ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

’اس معاشی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ نواز شریف نے عوام سے جو وعدے پانچ سال پہلے کیے تھے وہ پورے کیے ہیں۔‘

مفتاح اسماعیل نے حزب اختلاف کے اس دعوے کی تردید میں اعداد و شمار پیش کیے کہ موجودہ حکومت نے غیر معمولی مقدار میں قرضے لیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال کے دوران ملک کے ذمہ کل قرضوں کی مقدار 14 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 21 ہزار ارب روپے ہوئی یعنی ان کی مقدار میں تقریباً پچاس فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ملکی معیشت کے حجم میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا جو 22 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 34 ہزار ارب روپے ہوئی۔

’اس کا مطلب یہ ہوا کہ جی ڈی پی کی شرح کی مناسبت سے ملک پر قرضوں میں پچھلے پانچ سالوں میں اضافہ نہیں ہوا۔‘

مفتاح اسماعیل نے اقتصادی سروے میں درج اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اس سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 فیصد رہی ہے جو پچھلے تیرہ برس میں سب سے زیادہ ہے۔ ترقی کی اس تیز رفتار میں مختلف شعبوں نے اپنا حصہ ڈالا جس میں زراعت (3.8) مینوفیکچرنگ (5.8) سروسز (6.4) اور بڑی صنعتوں (6.25) نے اس رفتار سے ترقی کی جس کی مثال گزشتہ دس برس میں نہیں ملتی۔

مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ پانچ برس کے دوران افراط زر جسے عام لفظوں میں مہنگائی بھی کہا جا سکتا ہے، کی شرح میں بھی نمایاں کمی کی۔ اقتصادی سروے کے مطابق مہنگائی کی شرح سال 2008 میں 11.8 فیصد تھی اور 2013 میں اس کی شرح 7.9 تھی جو اس سال 3.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مشیر خزانہ کے مطابق افراط زر کی شرح میں اتنی تیزی سے اتنی کمی بھی ایک ریکارڈ ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ مالیاتی خسارے کو ان کی حکومت قابو میں نہیں رکھ سکی اور اس دوران جاری خسارہ دو برس میں دو گنا بڑھا۔ اس کی وجہ انہوں نے درآمدات میں اضافے کو قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پچھلے پانچ سال کے دوران ملک میں امن بحال اور بجلی کا بحران ختم کیا ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں ملکی معیشت کا فوکس برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ملکی صورتحال برآمدات میں اضافے کی پالیسیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا کہ سابق وزیر خزانہ اور ان کے پیش رو اسحٰق ڈار نے روپے کی قدر میں کمی کے ان کے اقدام پر تنقید کی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انہوں نے ایسا بہت سوچ سمجھ کر کیا اور ان کے خیال میں یہی درست اقدام تھا۔ ’میری رائے اسحٰق ڈار کی رائے سے مختلف ہے۔ میرے خیال میں روپے کی غیر ضروری مضبوطی معیشت کے لیے اچھی نہیں تھی۔‘

ان سے مالی سال 2018-2019 کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ پر حزب اختلاف کے اعتراضات کے بارے میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ پورے سال کے لیے ہی پیش کیا جائیگا۔ ’کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم تنخواہیں تین میں کے لیے بڑھائیں اور فوج کو بجٹ بھی تین ماہ کے لیے دیں اور اس کے بعد انڈیا سے کہیں کہ وہ سرحد پر اس وقت تک فائرنگ بند کر دے جب تک نئی حکومت آ کر پورے سال کا بجٹ پیش نہیں کر دیتی؟‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں