کم اور مون جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر متفق

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان نے سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے میں مصافحہ کیا

شمالی اور جنوبی کوریا نے رہنماؤں نے تاریخی ملاقات کے بعد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مل کر کام کر نے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اعلان شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور جنوبی کوریا کے رہنما مون جے اِن کے درمیان سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان اپنے نو رکنی وفد کے ساتھ کم جونگ ان سے ملے۔

’تاریخی ملاقات‘ تصاویر میں

جزیرہ نما کوریا میں ’امن کے لیے نئے دور کا آغاز‘

خطے کو جوہری ہتھیاروں کو کیسے پاک کیا جائے گا اس حوالے سے تفصیلات واضح نہیں ہیں تاہم یہ اعلان شمالی کوریا کی جانب سے کئی ماہ سے جاری جنگی بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ بیان میں جن دیگر امور پر اتفاق کیا گیا وہ درج ذیل ہیں

  • دونوں ملکوں کے درمیان 'جارحانہ سرگرمیوں' کا خاتمہ۔
  • پروپیگینڈہ نشریات بند کرتے ہوئے دونوں ممالک کو تقسیم کرنے والے 'غیر فوجی علاقے' کی 'امن کے علاقے' میں تبدیلی۔
  • خطے میں فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسلحے میں کمی۔
  • سہ فریقی مذاکرات میں امریکہ اور چین کی شمولیت کی کوششیں۔
  • جنگ کے بعد تقسیم ہونے والے خاندانوں کے ملاپ کا انعقاد۔
  • ریل کے ذریعے دونوں ممالک کو جوڑنا اور ریل کے نیٹ ورک کی بہتری۔
  • رواں برس ایشیائی کھیلوں کے علاوہ کھیلوں کے دیگر مقابلوں میں مشترکہ شمولیت۔

یہ بھی پڑھیے

’اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا‘

کم جونگ ان چین میں کیا کرتے رہے؟

جنوبی کوریا: لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے پروپیگنڈا نشریات بند

اس سے قبل شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنے ملک کے کسی سربراہ کی جانب سے 1953 کے بعد جنوبی کوریا کے پہلے دورے کے موقعے پر دو طرفہ تعلقات کی ’نئی تاریخ‘ رقم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

کم جونگ ان جمعے کی صبح سنہ 1953 کی کورین جنگ کے اختتام کے بعد سرحد پار کر کے جنوبی کوریا میں داخل ہوئے تھے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس تاریخی موقعے پر شمالی کوریا کے رہنما سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہوں کی تاریخی ملاقات: ایجنڈا کیا ہے؟

اپنی آمد پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس موقعے کو امن کے لیے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انھوں نے پیس ہاؤس میں کتاب پر لکھا ’ایک نئی تاریخ اب شروع ہو رہی ہے، نئی تاریخ کا آعاز اور امن کا دور۔‘

ان دونوں کی ملاقات غیر فوجی علاقے میں ہوئی۔

اس سربراہی ملاقات کا بنیادی ایجنڈا پہلے سے طے شدہ ہے، تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ شمالی کوریا کس حد تک تعلقات کی بحالی کی لیے پرجوش ہے۔

اس وقت تمام جنوبی کوریا تھم سا گیا جب دونوں ملکوں کے سربراہوں نے سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے میں آپس میں مصافحہ کیا۔

اس کے بعد لوگوں مزید حیران رہ گئے جب کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے صدر کو تھوڑی دیر کے لیے لکیر عبور کر کے شمالی کوریا میں قدم رکھنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد دونوں رہنما ہاتھوں میں ہاتھ لیے دوبارہ جنوبی کوریا کی حدود میں داخل ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں رہنماؤں نے خاصی دیر تک ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے رکھے

غالباً یہ لمحہ ایسا تھا جو پہلے سے طےشدہ نہیں تھا۔

ملاقات کا پہلا سیشن اب ختم ہو گیا ہے اور اب دونوں رہنما الگ الگ دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ کم جونگ ان اپنی سیاہ لیموزین میں واپس شمالی کوریا چلے جائیں گے، اور سہ پہر کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوبارہ جنوبی کوریا کا رخ کریں گے۔

اس تاریخی ملاقات میں شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کے مقصد پر توجہ مرکوز ہو گی۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ مون جے اِن کے ساتھ ان تمام معاملات پر بات کریں گے جن سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

کم جونگ ان ڈی ایم زیڈ تک گاڑی میں آئے لیکن اجلاس والی جگہ تک پیدل چل کر گئے۔ انھوں نے اسی حصے سے سرحد عبور کی جہاں سے حال ہی میں ایک شمالی کوریا سے بھاگنے والے شخص نے سرحد عبور کی تھی جسے شمالی کوریا کے فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔

اسی بارے میں