مسلم لیگ نواز کا چھٹا اور آخری بجٹ گذشتہ بجٹس سے مختلف کیسے ہے؟

پاکستان، بجٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں بجٹ کا اعلان عموماً مئی کے آخر یا جون کے شروع میں ہوتا ہے

پاکستان کی موجودہ حکومت اپنی مدت کے آخری ایام میں چھٹا بجٹ پیش کر رہی ہے۔ گو پاکستان کی تاریخ میں یکم جولائی سے شروع ہونے والی مالی سال کے لیے بجٹ کا اعلان مئی کے آخر یا جون کے شروع میں ہوتا ہے لیکن اس بار بجٹ اپریل میں پیش کیا جا رہا ہے؟

اسی لیے بجٹ کے اعلان سے چند روز قبل بھی یہ صورت حال واضح نہیں ہو پا رہی تھی کہ آیا بجٹ آ بھی رہا ہے یا نہیں۔ اب جب کہ مالی سال 2018-19 کے لیے بجٹ کا اعلان ہو رہا ہے تو ایسے میں یہ سالانہ میزانیہ پاکستان کے باقی سالانہ بجٹوں کی نسبت کتنا مختلف ہے؟

یہ بھی پڑھیے

’آئندہ بجٹ میں کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کریں گے‘

اسحاق ڈار کی کون سی پالیسیاں نقصان دہ رہیں؟

پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ کیا ہے؟

سیاسی ہلچل اور اقتصادی صورتحال

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو جولائی میں وزیرِ اعظم کے عہدے سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد سے ملک کا اقتصادی منظرنامہ بھی تیزی سے تبدیل ہوا۔

نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار قومی احتساب بیورو کی عدالت میں کئی بار پیش ہوئے۔ اُس وقت کے وزیر خزانہ پر منی لانڈرنگ کے الزام سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اسحاق ڈار بعد میں بیمار ہو کر ملک سے باہر چلے گئے۔ ایسے میں وزارتِ خزانہ کا قلمدان کبھی اس ہاتھ تو کبھی اُس ہاتھ آتا رہا۔

مشیر خزانہ سے وزیرِ خزانہ

اسحاق ڈار کے بعد پہلے وزیرِ مملکت رانا افضل نے معیشت کی باگ ڈور سنبھالی اور پھر مفتاح اسماعیل کو مشیرِ خزانہ بنایا گیا۔

مفتاح اسماعیل کی ٹیم نے بجٹ تیار کیا اور اُسے ایوان میں پیش کرنے کے لیے انھیں راتوں رات وزیر خزانہ کا عہدہ دیا گیا۔

ان تمام حالات میں پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی، اقتصادی ترقی تو ہوئی لیکن اِخراجات میں اضافے اور زر مبادلہ کے ذخائر نے ملکی معیشت کو نازک دوراہے پر لا کھڑا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار علیل ہونے کے سبب علاج کی غرض بیرونِ ملک منتقل ہو گئے ہیں

کاروباری حلقوں میں ابہام

پاکستان میں بجٹ کی تیاری کے دوران عموماً اپریل میں مختلف اقتصادی ماہرین، تاجر برادری، صنعت کاروں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے تجاویز لی جاتی ہیں اور ان کی دی گئی تجاویز کو مختلف ماہرین کی مشاورت کے بعد بجٹ میں شامل کیا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ یہ سب بہت جلدی میں ہوا۔ نہ تو تاجر برادری اپنی تجاویز دینے میں زیادہ سنجیدہ تھی اور نہ ہی حکومت نے مختلف حلقوں سے رابطہ کیا۔

اقتصادی ماہرین اور کاروباری برادری کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کو تو بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اُن کے مطابق موجودہ حکومت وہ پالیسی پیش کر رہی ہے جس پر عمل درآمد آئندہ حکومت کرے گی۔ ایسے میں آنے والے بجٹ کی اہمیت اتنی نہیں رہی جتنی عام حالات میں ہوا کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کاروباری اور صنعتی حلقے بجٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے ایڈہاک فیصلوں سے متفق نہیں ہیں

بجٹ سے الیکشن میں فائدہ

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت انتخابات سے قبل اس بجٹ میں چند ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے ممکنہ طور پر اُسے الیکشن میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

مبصرین کے خیال میں نئے ٹیکس عائد نہ کرنے اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکسوں میں کمی جیسے مقبول فیصلوں سے آئندہ انتخابات میں موجودہ حکومت کو فائدہ ہو گا۔

اقتصادی ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ موجودہ حکومت کا ’الیکشن روڈ میپ' ہے۔

انھوں نے کہا 'اس بجٹ کے ذریعے مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنے ووٹروں سے وعدہ کر رہی ہے کہ اگر وہ دوبارہ حکومت میں آئے تو انھیں ریلیف ملے گا۔

ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب اقتصادی خسارہ بڑھ رہا ہے جس سے آنے والی حکومت کے لیے 'غیر مقبول' فیصلے کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

ایڈہاک فیصلے، صوبے ناراض

یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب رواں سال اقتصادی اعداد و شمار بھی جولائی سے دسمبر تک دستیاب ہیں اور انھی اعداد و شمار کی بنیاد پر آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے

ایسے میں ماہرین کے مطابق بجٹ میں ایڈہاک بنیادوں پر فیصلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ سے قبل وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے واک آؤٹ کیا۔

اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وفاق کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ سے صوبے متفق نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے میں صوبوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

پاکستان کے آئین کے مطابق اسمبلیوں کی عدم موجودگی میں نگران حکومت چار ماہ تک ملک چلانے کے لیے اخراجات کر سکتی ہے اور بعد میں آنے والی اسمبلی نگران دور میں کیے گئے اخراجات کی منظوری دی سکتی ہے لیکن مسلم لیگ نواز کی حکومت نے نگران حکومت کی بجائے خود بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بجٹ سے مسلم لیگ نواز انتخابات میں سیاسی فائدہ تو لے سکتی ہے لیکن اس پر تمام فریقین کو متفق کرنا مشکل ہو گا۔

اسی بارے میں