لیگی وزیروں کے خواتین سے متعلق توہین آمیز بیانات پر شہباز شریف کی معافی

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ اور وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی کے حالیہ خواتین سے متعلق بیانات پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اور ان بیانات کو ٹی وی چینلوں نے بریکنگ نیوز کے طور پر بھی چلایا۔ سوشل میڈیا پر #عورت_کو_عزت_دو کا ٹرینڈ بھی نظر آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/chaudhry_nabeel
Image caption غیر پارلیمانی زبان کا استعمال ملک کے پارلیمان میں بھی اکثر گونجتا ہے

لیگی رہنماؤں کے خواتین مخالف بیانات کے بعد سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ان کے خلاف شدید ردِ عمل نظر آیا اور لوگوں نے لیگی رہنماؤں سے معافی مانگنے اور ان کے استعفوں کا مطالبہ بھی کیا۔

بات اتنی آگے بڑھ گئی کہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اپنی ایک تقریر کے دوران اپنے وزرا کے بیانات پر معافی مانگنی پڑی۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر بیان میں بھی کہا کہ ان کی جماعت ملکی سیاست میں خواتین کے کردار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

اگرچہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی معذرت نہیں کی گئی اور نہ ہی عابد شیر علی نے اپنے الفاظ واپس لیے بلکہ جواب میں یہ ٹوئٹ کی کہ جب عمران خان نے پوری پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی تو اس وقت سب کہاں تھے؟

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لکھا: ’ہماری خواتین کارکنان کے خلاف عابد شیر علی اور رانا ثنااللہ کے گھٹیا زبانی حملے قابل گرفت اور قابل مذمت ہیں۔ گذشتہ 30 برسوں کے دوران ان لوگوں نے اسلامی و ثقافتی روایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خواتین کے لیے توہین آمیز طرزعمل اپنایا۔‘

پی ٹی آئی کی صوبائی رکن اسمبلی سونیلہ روتھ کے مطابق ان کی جماعت کل پنجاب اسمبلی میں احتجاج کرے گی اور رانا ثنا اللہ کے ریمارکس کے خلاف تحریک بھی جمع کروا دی گئی ہے اور انھیں جماعت سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان کو ان بیانات کی مذمت کرنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

انھوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا کہ ’چاہے یہ عابد شیر علی ہو، رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری یا عمران خان میں اسے برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو رانا ثناء اللہ نے کہا وہ غلط تھا، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ انھیں یہ نہیں کہنا چاہیئے تھا۔ جو طلال چوہدری نے کہا وہ غلط تھا۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ انھیں یہ نہیں کہنا چاہیئے تھا۔‘

وزیرِ دفاع خرم دستگیر خان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں لکھا ’خواتین کے متعلق توہین آمیز بیانات قابلِ مذمت ہیں، چاہے یہ زبان کوئی بھی استعمال کر رہا ہو۔‘

سوشل میڈیا پر بھی ان بیانات کے بعد شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔ اینکر پرسن رابعہ انعم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’میں رانا ثنا اللہ اور عابد شیر علی اور اس قسم کے لوگوں کا انٹرویو نہیں کروں گی جب تک وہ کھلے عام معافی نہیں مانگتے۔ بہت ہو گیا ہے۔ تمام خواتین اینکر پرسنز اور صحافی ان کا بائیکاٹ کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دونوں رہنماؤں کے بیانات کی مذمت کی جا رہی ہے اور معافی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ان کا سوشل بائیکاٹ بھی کرنے کو کہا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما ماروی میمن نے ٹویٹر پیغام میں جہاں یہ لکھا کہ ہم میں کسی مرد یا عورت کے خلاف بری زبان کے استعمال کی مذمت کرنے کی جرات ہونی چاہیے وہیں یہ بھی لکھا کہ ’مجھے کہنے دیں کہ یہ ہر جماعت میں موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اسی بارے میں