انٹرنیٹ کی وجہ سے اخبار فروش پریشان

اخبار تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اخبار فروش یونین کی درخواست پر اخبار مالکان نے اخبارات کی انٹرنیٹ کاپی دن کے 11 بجے کے بعد اپلوڈ کرنے کا وعدہ کیا ہے

’پاکستان میں جب نوازشریف کو اقتدار سے بے دخل کر کے 1999 میں فوجی مارشل لا نافذ کیا گیا تو اس وقت اخبارات نے ضمیمہ چھاپا تھا جس کی تقریباً دس لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔ لیکن جب گذشتہ برس نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو کسی اخبار نے بھی ضمیمہ نہیں چھاپا کیونکہ لوگوں کو اس کی خبر اور تفصیلات انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلوں پر مل گئی تھیں۔‘

یہ کہنا تھا پاکستان میں اخبار فروش فیڈریشن خیبر پختونخوا کے نائب صدر عبدالرحمان کا جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پریشان ہیں۔

رحمان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے اخبارات کی فروخت میں خاصی کمی آئی ہے کیونکہ بہت سارے لوگوں نے اخبارات خریدنا اس لیے بند کر دیا ہے کیونکہ ان کے ای پیپرز انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہوتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اخبارات کی فروخت میں کمی کے بارے میں بتایا کہ پشاور میں سب سے مقبول اردو اخبار کی فروخت دن میں 20 ہزار کاپیوں سے کم ہو کر اب 13 ہزار رہ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دیہی علاقوں میں چونکہ انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے اس لیے وہاں اخبارات کی فروخت میں کمی نہیں آئی

رحمان پشاور کے پوش علاقے حیات آباد فیز 6 میں لوگوں تک اخبارات پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال پہلے وہ 900 کاپیاں فروخت کرتے تھے لیکن اب یہ کم ہو کر 430 تک پہنچ گئی ہے۔

’لوگوں کو جب ہم آٹھ بجے تک اخبار دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اخبار ہم نے ایک گھنٹہ پہلے انٹرنیٹ پر پڑھا ہے اب خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟‘

نجی دفاتر نے بھی اخبار خریدنا چھوڑ دیا ہے لیکن سرکاری دفاتر میں ابھی بھی اخبارات کی فروخت ہوتی ہے۔

رحمان کہتے ہے کہ پچھلے سال سیلولر موبائل کی ایک فرائنچائز میں وہ ہر روز نو اخبارات دیتے تھے لیکن اب انھوں نے بھی سارے بند کر دیے ہیں۔

'سرکاری دفاتر میں اخبارات اس لیے فروخت ہوتے کیونکہ ان کا خرچہ حکومت دیتی ہے اور اس کا کسی فرد پر اثر نہیں پڑتا۔'

رحمان اور اس کاروبار سے منسلک فیڈریشن کے ساتھ رجسٹرڈ تقریباً ایک لاکھ اخبار فروش اس لیے پریشان ہیں کیونکہ یہی اخبار ان کی روزی روٹی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اخبار فروخت کرنے پر انھیں کمیشن دیا جاتا ہے جس میں تقریباً 50 فیصد تک کمی آئی ہے کیونکہ لوگ اخبار خریدتے ہی نہیں۔

لیکن دیہی علاقوں میں یہ صورتحال یکسر مختلف ہے۔ رحمان کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں چونکہ انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے یا وہاں کے لوگ اس سے نا آشنا ہیں اس لیے وہاں اخبار کے فروخت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کا حوالہ دیتے ہوئے رحمان نے کہا کہ وہاں اخبارات کی فروخت میں سال 2016 کے مقابلے میں 20 فیصد کمی آئی ہے لیکن اسی ضلع سے منسلک پسماندہ ضلع بٹگرام میں فروخت پر کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ وہاں پر انٹرنیٹ کی سہولت مانسہرہ کے مقابلے میں اتنی نہیں ہے۔

پشاور کے رہائشی محمد رفیق اخبار پڑھنے کے شوقین ہیں۔ انھوں نے گذشتہ دو برسوں سے تین اخبارات سبسکرائب کیے تھے جن کے وہ مہینے کے 600 روپے دیتے تھے۔

رفیق کہتے ہیں کہ کچھ مہینے پہلے انھوں نے اخبار کی سبسکرپشن بند کر دی کیونکہ اب تقریباً سارے اخبارات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔

لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر اخبار پڑھنے میں وہ مزا نہیں جو پرنٹ میں ہوتا ہے۔ 'جب تین کے بجائے تقریباً سارے اخبارات مفت میں پڑھنے کے لیے موجود ہوں تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اخبار خریدے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب اخبارات انٹرنیٹ پر مفت موجود ہیں تو کوئی کیوں پیسے سے خریدے

’ہم سے صبح اخبار پڑھنے کا حق چھینا گیا‘

اخبار فروش یونین کی درخواست پر اخبار مالکان نے ان کے ساتھ متفق ہو کر اخبار کی انٹرنیٹ کاپی دن کے 11 بجے کے بعد اپ لوڈ کرنے کا وعدہ کیا ہے جس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔

اخبار فروش یونین نے اس بارے میں بتایا ہے کہ وہ ان اخبارات کے خلاف ایکشن لینے کا حق محفوظ کرتے ہیں جو اخبار 11 بجے سے پہلے اپ لوڈ کرتے ہیں۔

سینئیر صحافی افتخار احمد لکھتے ہیں کہ اخبار مالکان نے ان سے صبح سویرے پانچ بجے اخبار پڑھنے کا حق بھی چھین لیا۔

ایک دوسرے صارف انور زادہ نے لکھا کہ ہمیں اس فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ اخبارات کی فروخت سے لاکھوں لوگوں کی روزی وابستہ ہے۔

اسی بارے میں