جلیلہ حیدر: ’بس ایک ہی مطالبہ ہے جنرل باجوہ آئیں اور ان ماؤں کی فریاد سنیں جن کے بچوں کو مارا گیا ہے‘

Image caption تین دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے جلیلہ حیدر کمزور ہو گئی ہیں جس کے باعث ان کو ڈرپ لگائی گئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر کی تادم مرگ بھوک ہڑتال چوتھے دن بھی جاری ہے جبکہ کراچی اور اسلام آباد میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

تین دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئی ہیں جس کے باعث ان کو ڈرپ لگائی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ شب انھوں نے بہت زیادہ کمزوری محسوس کی تو ساتھیوں نے ان کو ڈرپ لگائی۔ ’میں ڈرپ لگانے کے بھی خلاف تھی لیکن یہ ساتھیوں کا اصرار تھا۔‘

کچھ نہ کھانے کی وجہ سے اگرچہ وہ کمزور ہوگئی ہیں لیکن انھوں نے بھوک ہڑتال کو جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

مزید پڑھیے

احسن اقبال کی اپیل مسترد، کوئٹہ میں دھرنا جاری

’کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے‘

کوئٹہ: فائرنگ سے ہزارہ قبیلے کے دو افراد ہلاک

دبک کے بیٹھے رہو، کہیں لو نہ لگ جائے

’میں ایک مضبوط عورت ہوں۔ میں مطالبات تسلیم ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ جدوجہد اپنے بھائیوں کو بچانے کے لیے ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کی ہے

وہ کہتی ہیں کہ کسی چوک پر گولی کھانے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ ان کی زندگی کا خاتمہ جدوجہد کرتے ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ آئیں اور ہماری ان ماؤں کی فریاد کو سنیں جن کے بچوں کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مارا گیا۔‘

کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی جانب سے بھی کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں کوئٹہ سے سابق رکن قومی اسمبلی آغا ناصر شاہ اور بی این پی کے ایک اور رہنما ڈاکٹر رمضان تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کوئٹہ شہر میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جہاں پریس کلب کے باہر یہ بھوک ہڑتالی کیمپ قائم ہیں وہاں کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنے بھی جاری ہیں۔

ان میں سے ایک دھرنا بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے باہر مجلس وحدت المسلمین کے رکن اسمبلی آغا رضا کی قیادت میں دیا گیا ہے جبکہ ایک اور دھرنا بروری کے علاقے میں مغربی بائی پاس پر دیا جا رہا ہے۔

Image caption اسلام آباد میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مظاہرہ

گذشتہ شب اسمبلی کے باہر دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کے لیے وفاقی وزیر برائے داخلہ احسن اقبال بھی ہنگامی دورے پرکوئٹہ پہنچے تھے لیکن ان کی درخواست پر دھرنا ختم نہیں کیا گیا۔

ہزارہ قبیلے کے لوگ اس وقت دھرنے یا بھوک ہڑتال کی شکل میں جو احتجاج کر رہے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس کو اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک فوج کے سربراہ متاثرہ خاندانوں کی بات سننے کے لیے نہیں آتے۔

ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ

پاکستان میں حکومتی سطح پر قائم قومی کمیشن برائے حقوق انسانی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 16 برسوں کے دوران صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں ہزارہ برادری کے 525 افراد ہلاک اور734 زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہزارہ افراد کی بڑی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سنہ 2000 کے بعد پیش آئے: رپورٹ

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے بارے میں رپورٹ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہزارہ افراد کی بڑی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سنہ 2000 کے بعد پیش آئے۔

رپورٹ میں 15ا گست 2001 سے 20 اکتوبر2017 تک ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے 46 واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں 525 افراد ہلاک اور 734زخمی ہوئے۔

تاہم ہزارہ تنظیموں کے مطابق ہلاک اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی بارے میں