الطاف حسین کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم

imran farooq تصویر کے کاپی رائٹ METROPOLITAN POLICE

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے برطانیہ میں قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں اس جماعت کے بانی اور مقدمے میں نامزد کردہ ملزم الطاف حسین کا شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ملزم الطاف حسین کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے ہیں۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کے جج شاہ رخ ارجمند نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی۔

یہ بھی پڑھیے

عمران فاروق کیس: تین ملزمان کے خلاف اشتہارات جاری

الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے اس مقدمے سے متعلق چالان عدالت میں پیش کیا۔

عدالت نے اس مقدمے میں ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں گرفتار ہونے والے تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ان ملزمان میں خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی سید شامل ہیں جن پر اس مقدمے میں فرد جرم ان کی گرفتاری کے ڈھائی سال بعد عائد کی گئی ہے۔

ایف آئی اے کی طرف سے عدالت میں پیش کیے گئے چالان میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین اور ان کے بھانجھے افتخار حسین کے علاوہ، افتخار محمد ،معظم علی ،خالد شمیم، محسن علی اور کاشف کے شامل ہونے کے بارے میں لکھا گیا ہے۔

اس مقدمے کا چالان ایف آئی اے کے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر خواجہ محمد امتیاز نے عدالت میں پیش کیا جس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سمیت سات ملزمان کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے جب تین ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی تو اُنھوں نے صحت جرم سے انکار کیا۔

عدالت نے آٹھ مئی کو استغاثہ کے گواہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب اور ایف آئی اے کاونٹر ٹیررازم ونگ کے عبدالمنان کو طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل منتقل کردی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں