’حسین حقانی کے معاملے میں امریکی تعاون نہیں کر رہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption حسین حقانی سپریم کورٹ میں یہ بیان حلفی دے کر امریکہ گئے تھے کہ اگر اُنھیں عدالت بلائے گی تو وہ چار دن کے نوٹس پر واپس آجائیں گے

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ امریکی حکام بظاہر پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی حوالگی سے متعلق پاکستانی حکام سے تعاون نہیں کر رہے اور انھوں نے اس معاملے میں پاکستان سے مزید دستاویزی ثبوت مانگے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں میمو گیٹ کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کو بتایا کہ ملزم کی حوالگی کے بارے میں پاکستانی حکام نے امریکی حکام سے بات چیت کی تھی تاہم اُنھوں نے اس بارے میں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔

اس بارے میں یہ بھی پڑھیے

میمو گیٹ: عدالت کا حسین حقانی کو ایک ماہ میں واپس لانے کا حکم

’جب میمو گیٹ زرداری پر بنا تو ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا‘

’اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا؟

اسامہ بن لادن: پانچ سوال جن کا آج تک جواب نہیں ملا

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انھوں نے مزید کہا کہ حسین حقانی کی حوالگی کے بارے میں پاکستان کو عالمی سطح پر بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’معلوم ہوا ہے کہ انٹرپول نے بھی اس بارے میں کوئی تعاون نہیں کیا اور اُنھوں نے حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے‘۔

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے امریکی حکام سے حسین حقانی کی حوالگی کے بارے میں بات کی تو امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اُن کا بندہ بھی پاکستانی حکام کے پاس ہے۔

لیکن ڈی جی ایف آئی اے نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جس کا ذکر امریکی حکام نے کیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص امریکی سپریم کورٹ کو پیش ہونے سے متعلق بیان حلفی دے کر عدالت میں پیش نہ ہو اور وہ شخص پاکستان واپس آجائے تو کیا پاکستان اس کی حوالگی کے بارے میں انکار کر سکتا ہے۔

ایف آئی اے کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے امریکی حکام کو حسین حقانی کی امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعیناتی کے دوران ’چار ارب روپے سے زیادہ کی بدعنوانی‘ میں ملوث ہونے کے بارے میں بھی بتایا لیکن ان کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی حوالگی کے بارے میں بھی انھیں مسائل کا سامنا تھا۔

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ انٹرپول میں اعلیٰ عہدوں پر پانچ بھارتی باشندے تعینات ہیں جبکہ اس میں پاکستان کا ایک بھی نمائندہ موجود نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میمو گیٹ کے معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی طرف سے ایک خط سامنے آیا تھا

سپریم کورٹ نے بین الاقوامی قوانین کے ماہر وکیل احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حسین حقانی کو وطن واپس لانے سے متعلق عدالت کی معاونت کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں امریکی افواج کے ہاتھوں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی طرف سے ایک خط سامنے آیا تھا جس میں اُنھوں نے مبینہ طور پر امریکی افواج سے پاکستان میں موجود جمہوری حکومت کی مدد کی درخواست کی تھی۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس عدالتی کمیشن نے حسین حقانی کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ تاہم حسین حقانی سپریم کورٹ میں یہ بیان حلفی دے کر امریکہ گئے تھے کہ اگر اُنھیں عدالت بلائے گی تو وہ چار دن کے نوٹس پر واپس آجائیں گے۔ امریکہ پہنچنے کے بعد حسین حقانی نے پاکستان واپس آنے سے انکار کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے وہ پاکستان نہیں جائیں گے۔

اسی بارے میں