بلوچستان: خاران میں مسلح افراد کے حملے میں چھ افراد ہلاک

لاش تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ٹاور پر کام کرنے والے افراد پر حملے کر کے انھیں ہلاک کر دیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے موبائل فون کے ٹاور پر کام کرنے والے چھ افراد ہلاک کر دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ان افراد کو خاران شہر سے تقریباً 80 کلو میٹر دور لجے کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔ لجے خاران شہر کے مشرق میں واقع ہے۔

خاران انتطامیہ کے ایک سینئیر اہلکار نے بتایا کہ سات افراد لجے کے پہاڑی علاقے میں ایک موبائل کمپنی کا ٹاور نصب کررہے تھے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد اس علاقے میں آئے اور انھوں نے ٹاور پر کام کرنے والے افراد پر حملہ کیا۔

اس حملے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

اہلکار نے بتایا کہ مارے جانے والوں میں مزدور اور ٹیکنیشن شامل ہیں اور ان افراد کا تعلق پنجاب کے علاقے اوکاڑہ سے ہے۔

کوئٹہ میں محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے مزدوروں کو یہاں کام کے لیے لانے سے قبل انتظامیہ سے این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا۔

خاران کوئٹہ شہر کے جنوب مغرب میں تقریباً تین سو کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔

ماضی میں بھی خاران شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں جہاں بدامنی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں وہاں یہ ضلع شورش سے زیادہ متاثرہونے والے اضلاع میں سے ایک آواران سے بھی متصل ہے۔

خاران میں اس سے قبل بھی شاہراؤں کے منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملے ہوتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں