الیکٹ ایبلز کی قانون سازیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوال یہ ہے کہ ہماری قسمتوں کے نگہبان ارکانِ پارلیمان جب بھی کوئی قانون سازی کرتے ہیں یا کسی قانون یا فیصلے میں ترمیم کی تائید یا مخالفت میں ووٹ دیتے ہیں تو کیا وہ یہ عمل باہوش و حواس کر رہے ہوتے ہیں؟ آدھے جاگتے سوتے میں ہاتھ بلند کرتے ہیں؟ یا کسی ڈر یا دباؤ کے تحت ربڑ کی مہر بن جاتے ہیں یا پھر بھیڑ چال سنڈروم کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جب سب ہاتھ اٹھا رہے ہیں تو میں بھی اٹھا دیتا ہوں۔

اگلے انتخابات میں کچھ نئے امیدوار بھی سامنے آئیں گے مگر بیشتر وہی نام نہاد ’الیکٹ ایبلز‘ ہوں گے۔ ان ایلکٹ ایبلز سیاسی آڑھتیوں میں سے کسی کو بھی ووٹ دیتے ہوئے رائے دہندہ کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ماضی میں حلقے، علاقے، ملک کے بارے میں قانون سازی کے وقت اس امیدوار یا اس کی پارٹی نے کتنا فعال پارلیمانی کردار ادا کیا۔

کیا اس نے پارلیمان کی مدت کے دوران کبھی کوئی بل پیش کیا، کسی بل کی تیاری میں شریک رہا، کسی بل میں کوئی ترمیم تجویز کی، کسی مسئلے پر کبھی اسمبلی میں طویل و مختصر، مدلل یا غیر مدلل تقریر فرمائی، کسی پارٹی پالیسی سے اختلاف کیا؟

یا پھر ہمارے ہزاروں ووٹوں سے منتخب ہو کر ہماری نمائندگی کے لیے ہمارے ہی کندھوں پر سوار ایوان تک پہنچنے والا ہمارا یہ ہیرو پانچ برس محض ہاتھ اٹھا کر ’یس‘ اور ’نو‘ کہنے اور پارلیمانی ڈیسک بجانے والا روبوٹ ہی بنا رہا۔

وسعت اللہ خان کے گذشتہ کالم پڑھیں!

ایسی بھی کیا جلدی؟

ٹیکس فری جنت کے رہائشی

سعودی عرب اور تایا صبغت اللہ

گالی ہی تہذیب ہے

مثلاً گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں عزت مآب کیپٹن محمد صفدر نے جو بل پیش کیا اس میں نیت تو قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے احاطے میں قائم ڈاکٹر عبدالسلام سینٹر فار فزکس کا نام بدلنے کی تھی مگر عجلت میں اسے سینٹر کے بجائے قائدِ اعظم یونیورسٹی کا ’ڈپارٹمنٹ آف فزکس‘ لکھ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ National Centre for Physics (NCP)
Image caption نیشنل سینٹر فار فزکس ایک خودمختار ادارہ ہے اور اس کی دیکھ بھال پاکستانی فوج کا ادارہ سٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن (ایس پی ڈی) کرتا ہے

19 ارکانِ اسمبلی کی تائید سے یہ بل منظور تو ہو گیا مگر دینی حمیت کے جوش میں کسی ایک نے بھی یہ بل پورا پڑھنے اور اس میں موجود قانونی سقم کی نشاندہی کی زحمت نہ کی۔ ایک تائید کنندہ نے اعتراف بھی کیا کہ اسے ووٹ دینے کے بعد احساس ہوا کہ اس بل کی حمایت نہیں کرنا چاہیے تھی۔

کسی کو کھڑے ہو کے یہ پوچھنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ بھائی ڈاکٹر سلام کو بطور پاکستانی نوبل پرائز فزکس پر ملا تھا یا بطور احمدی مبلغ عطا کیا گیا تھا؟

کیپٹن صفدر نے بھی بل پیش کرنے سے پہلے یہ چھان بین ضروری نہیں سمجھی کہ نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر سلام کے نام پر رکھنے کا نوٹیفکیشن ڈیڑھ برس پہلے جاری ضرور ہوا مگر عمل درآمد آج تک نہیں ہوا۔

فوج کے جس سٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے تحت یہ سینٹر کام کرتا ہے اس کی فائلوں میں آج بھی اس کا نام نیشنل سینٹر فار فزکس ہی ہے۔

کام بھی نہیں ہوا مگر ایک اور جگ ہنسائی ضرور ہوگئی۔

ایسا ہی ہاتھ گذشتہ برس اس وقت ہوا جب سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہوا اور چونکہ پڑھنے کی عادت تو کسی کو ہے نہیں لہذا مسلم لیگ ن کی پیش کردہ وہ ترمیم بھی اس بل کے ہلے میں منظور ہوگئی جس کے نتیجے میں عدالت سے نااہل قرار دیے جانے کے باوجود میاں نواز شریف کو پارٹی کا سربراہ بنانے کی راہ ہموار ہو گئی۔

بعد ازاں اس پارلیمانی خامی کو بھی اضافی عدالتی فیصلے کے ذریعے دور کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کتنے ارکانِ اسمبلی بجٹ کی دستاویزات چھوڑ بجٹ سمری پڑھنے کی زحمت کرتے ہیں؟ کتنے ارکانِ اسمبلی مطلب کی خبر سننے کے علاوہ روزانہ اخبار پڑھتے ہیں؟

کتنے ارکانِ اسمبلی آخری بار پارلیمنٹ کی لائبریری میں دیکھے گئے؟ کتنوں نے کسی نجی و رسمی گفتگو میں کبھی اس کتاب کا حوالہ دیا جو ان دنوں ان کے زیرِ مطالعہ ہے؟

جب یہ نہیں ہوگا تو کوئی بھی پارلیمنٹ منتخب کر لیں وہ ذہنی اپاہجوں کا اکثریتی کلب ہی ہوگی اور اس کلب کے اندر جس معیار کی قانون سازی اور بحث ہو گی اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ادارتی طوائف الملوکی کی صورت بکھرا پڑا ہے۔

ان حالات کا ذمہ دار کوئی اور نہیں صرف ووٹر ہے۔ ووٹر اگر حالتِ خواب میں رہے گا تو اس کی تمناؤں کی میراث یعنی پارلیمنٹ کا وقار اسی طرح غیر منتخب قوتوں کے ہاتھوں لٹتا رہے گا۔

مارکیٹ بھلے سیاسی ہو، طلب اور رسد کے اصول پر ہی چلتی ہے۔ طلب کے معیار میں تبدیلی آئے گی تو ہی رسد کے معیار میں بھی بدلاؤ آئے گا۔

ورنہ تو تیسرے درجے کا مال پہلے درجے کے بھاؤ بک ہی رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں