'سب سے اشتعال انگیز بیانات آج کل دامادِ اعظم کے ہیں وہ پہلے بند کروائے جائیں'

تصویر کے کاپی رائٹ Government of Punjab
Image caption وزیرِ داخلہ احسن اقبال کو سٹریچر پر ڈال کر ہسپتال لایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے حسبِ معمول کیے جا رہے ہیں۔ جہاں ایک جانب ان تبصروں میں حکمران جماعت پر تنقید کی جا رہی ہے وہیں اس صورتحال تک حالات کو پہنچانے کی ذمہ داری کا تعین بھی لوگ اپنے تئیں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اور وہ سوشل میڈیا ہی کیا جو ایسی صورتحال میں حالات کے تانے بانے نہ بنے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹویٹ کی کہ 'گولی چلانے والا صرف ایک آلۂ کار ہے۔ جو اس کی سرپرستی کرتے ہیں، جو اشتعال دلاتے ہیں سیاسی فائدے اور انتقام کے لیے اشتعال دلاتے ہیں وہ اصل مجرم ہیں۔'

اس پر عمر چیمہ نے تبصرہ کیا کہ 'امید کرتے ہیں کہ کیپٹن صفدر نے اپنے آپ کو نفرت کا پرچار کرنے والوں سے علیحدہ کر لیا ہو گا ڈاکٹر سلام کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے بعد۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مریم نواز کی ٹویٹ پر ردِ عمل میں ان سے سوالات بھی پوچھے گئے۔

اسی پر ٹویٹ طارق متین نے کی کہ 'سب سے اشتعال انگیز بیانات آج کل دامادِ اعظم کے ہیں وہ پہلے بند کروائے جائیں۔'

ایک ٹوئٹر صارف جو شاہ برھمن کے نام سے ٹویٹ کرتے ہیں نے لکھا 'جو لوگ یا قوتیں تحریکِ لبیک پاکستان کو آگے بڑھا رہی ہیں وہ اچھی طرح جان لیں کہ ناگ کو جتنا مرضی دودھ پلا لیں وہ ایک دن آپ کو بھی ڈسے گا جیسے آپ کے پالے ہوئے طالبانی ناگ اور دوسرے سانپوں نے بھی آپ کو آپ کے گھر میں گھس کر ڈنگ مارے یہ حملہ محض ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ پوری قوم پر حملہ ہے۔'

سابق وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے لکھا 'مذہبی، نسلی اور سیاسی تفریق اور اختلافات کو جس طرح ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ احسن اقبال کو زندگی دے اس آگ سے کسی کا دامن محفوظ نھیں رہے گا۔ منافرت کا عفریت سب کچھ تباہ و برباد کر دے گا۔ خدا کے لیے ہم سب کو مل کرگھر درست کرنا ہے۔۔'

مگر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران احسن مرزا نے ٹویٹ کی کہ 'ہر سیاستدان ختم نبوت کا استعمال کرتا رہا ہے آخرکار اب ملک پاگل خانہ بن گیا ہے جہاں جس کا دل چاہے کسی کو مذہبی جنونیت کے زیرِ اثر قتل کردے۔'

اس ساری بحث میں لوگ شیخ رشید اور پی ٹی آئی کے رہنما گلوکار ابرار الحق کی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں جس میں وہ ختم نبوت کی شق کے حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ 'ابھی آپ کو تکلیف بہت ہے۔ ابھی آپ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سابق وزیرِ خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں تفریق اور اختلافات پر بات کی

تاہم ابرارالحق نے اس حملے کے بعد اس کی مذمت میں ایک اور ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے اپنے ہسپتال کا ذکر کیا۔ جس پر انہیں سوشل میڈیا پر مزید طنز کا نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ابرارالحق کی ٹویٹ جو انہوں نے اس حملے کے بعد ڈیلیٹ کر دی

ابرارالحق نے چند دن قبل عالمی یومِ مزدور کے موقع پر ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے لکھا 'احسن اقبال آپ کو یومِ مزدور پر مبارکباد دے رہا ہے۔ آپ خود دنیا کا سب سے امیر ترین مزدور ہیں جو اقامہ رکھتے ہیں اور ایک وزیر بن کر لوٹتے بھی ہیں۔ جلد ہی آپ کو دردِ زہ ہو گا انشااللہ۔'

اس ٹویٹ پر نہ صرف مختلف حلقوں کی جانب سے زبان کے استعمال کے حوالے سے تنقید کی گئی اور اسے عورت مخالف قرار دیا گیا بلکہ اس حملے کے بعد اس پر تبصرے شروع ہونے کے بعد اچانک سے یہ ٹویٹ غائب ہو گئی۔

اس کے علاوہ شیخ رشید کے بیان کو جو انہوں نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعے کے بعد دیا بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ' ابھی جوتی جوتی کھیل رہے ہیں ورنہ یہ گولی گولی کھیلیں گے لاٹھی لاٹھی کھیلیں گے جو شخص اتنے بڑے مجمع میں جوتی مار سکتا ہے وہ گولی بھی مار سکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس حملے کا تعلق ختم نبوت کے مسئلے سے بھی جوڑا گیا۔

تاہم اس حملے کے بعد شیخ رشید نے ٹویٹ کر کے لکھا 'وزیرِداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ افسوسناک ہے۔'

مگر اس کے نیچے ہی نومی ساحر کی ایک ٹویٹ ری ٹویٹ کی کہ 'احسن اقبال کو چاہیے ہسپتال سے ویڈیو پیغام میں بتائیں کہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے ذمہ دار کون ہیں۔'

اسی بارے میں