اصغر خان کیس: ’صرف اپنے آپ کو بچانے کے لیے فوج کو بدنام نہ کریں‘

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کے معاملے پر سابق ایئر چیف اصغر خان کی درخواست پر فیصلے سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور انٹر سروسز انٹیلیجینس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی نظرثانی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ سنہ 1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے فوج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ آ کر بتائیں کہ اس مقدمے میں اب تک کیا ہیش رفت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اصغر خان کیس کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت

کس کس نےآئی ایس آئی سے پیسے لیے،تحقیق شروع

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کی۔

ان درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے فیصلے کے بارے میں نظرثانی کریں جس میں درخواست گزاروں کے بارے میں بھی کارروائی کا کہا گیا تھا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے استفسار کیا کہ اس درخواست پر فیصلہ 2012 میں دیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل نے وجوہات معلوم کرنے کے لیے عدالت سے دو روز کی مہلت مانگی تاہم عدالت نے ان کی استدعا کو مسترد کر دیا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا بھی تعین کیا جائے گا جنھوں نے اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔

عدالت نے ایف آئی اے کے سربراہ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں حاضر ہوں اور عدالت کو اس فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق آگاہ کریں۔

میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک نگراں حکومت اور ایک منتخب حکومت نے بھی اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جبکہ اس بارے میں کوئی حکم امتناعی بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔

Image caption اصغر خان کی جانب سے 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنایا تھا

بری فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے بطور آرمی چیف ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا جس سے ادارے کی عظمت پر حرف آتا ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اُنھوں نے کبھی بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کی۔

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ وہ یونس حبیب کو صرف اس حد تک جانتے ہیں کہ وہ سندھ رجمنٹ میں کنٹریکٹر تھے اور اُنھوں نے سندھ رجمنٹ کے لیے مسجد عطیہ کی تھی۔

یونس حبیب مہران بینک کے سربراہ تھے اور ان پر الزام ہے کہ فوج کی قیادت نے اُن کے ذریعے سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کیے تھے۔

اسد درانی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے وہی کچھ کیا جو اس وقت کی فوج کمان نے حکم دیا۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر چیف آف کمانڈ کسی کو قتل کرنے کا حکم دے تو کیا فوج اس کو قتل کر دے گی جس پر اسد درانی کے وکیل کا کہنا تھا کہ بطور فوجی اس پر فرض ہے کہ وہ کمانڈ کا حکم مانے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صرف اپنے آپ کو بچانے کے لیے فوج کو بدنام نہ کریں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی براہ راست وزیر اعظم کو جواب دہ ہوتا ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ان درخواستوں کو مسترد کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان درخواستوں کو منظور کر لیتے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم ہو جاتا۔

خیال رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے عدالت میں بیان حلفی دیا تھا کہ اُنھوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے کہنے پر سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔

سابق آرمی چیف کا موقف تھا کہ سابق صدر غلام اسحاق خان کے دور میں اس وقت ایوان صدر میں ایک سیل بنا ہوا تھا جہاں سے احکامات دیے جاتے تھے۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست پر تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں