پاکستان میں کوئلے کی اندھیری کانوں کی نذر ہونے والے مزدور

کان

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سب سے پسماندہ سمجھے جانے والے ضلع شانگلہ کے دو نوجوان بھائیوں نے اس امید پر کان کنی جیسا سخت اور خطرناک پیشہ اپنایا ہوا تھا کہ شاید کسی مرحلے وہ اپنے خاندان کو غربت کی چکی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کر سکیں لیکن ان کی یہ خواہش شاید ہی کبھی پوری ہو سکے گی۔

یہ کہانی ان دو نوجوان بھائیوں کی ہے جو چار دن پہلے بلوچستان میں کوئلے کی ایک کان میں ہونے والے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

27 سالہ عبد اللہ خان اور 20 سالہ عبد الحق کا تعلق ضلع شانگلہ کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے زڑہ سے تھا۔

یہ دونوں بھائی گھر کے واحد کفیل تھے۔ عبداللہ خان کے دو چھوٹے بچے بھی ہیں جبکہ عبدالحق غیر شادی شدہ تھے لیکن ان کی منگنی ہو چکی تھی اور آئندہ سال شادی متوقع تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کوئٹہ: کان حادثات میں 23 ہلاک، مزدور تنظیم کا احتجاج

بلوچستان: کوئلے کی ایک اور کان میں مہلک حادثہ

بی بی سی اردو کی ٹیم نے دور افتادہ اور دشوار گزار پہاڑی گاؤں زڑہ کا دورہ کیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر واقع اس گاؤں کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد یا تو کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں یا پھر بااثر خوانین کے ہاں گھروں میں ملازم ہیں۔

ہلاک ہونے والے بھائیوں کے چچا سعید گل نے بتایا کہ یہ خاندان کئی دہائیوں سے غربت کا شکار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد بھی تقریباً 30 سال تک کوئلے کی کانوں میں کام کر چکے ہیں اور آخری عمر میں انہیں کانوں کے اندر کام کرنے کی وجہ سے پھیپھڑوں کے کینسر کا مرض لاحق ہوا جس سے وہ ہلاک ہوئے۔

Image caption 20 سالہ عبد الحق کا تعلق ضلع شانگلہ کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے زڑہ سے تھا

ان کے مطابق ’عبد اللہ خان کے والد کے پاس عمر کے آخری دنوں میں علاج کے پیسے نہیں تھے اور ایک دن اس نے تنگ کر کہا کہ اب میرے پیٹ میں چھری کیوں نہیں مارتے تاکہ میں اس آذیت سے ہمیشہ کےلیے آزاد ہو جاؤں۔‘

انھوں نے کہا کہ دونوں بھائیوں نے اس امید پر کان کنی کا سخت پیشہ اپنایا ہوا تھا کہ شاید کسی مرحلے پر وہ اس قابل ہو سکیں کہ اپنے خاندان کی زندگی بدل سکیں اور ان کے بچے بھی تعلیم حاصل کریں لیکن شاید قدرت کو یہ منظور نہیں تھا۔

بلوچستان میں سنیچر کو کانوں کے اندر ہونے والے دو مختلف حادثات میں کم سے کم 25 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔ مرنے والوں میں 21 کان کنوں کا تعلق ضلع شانگلہ سے تھا۔

تقریباً پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتمل وادی شانگلہ زیادہ تر پہاڑی دیہات پر مشتمل ہے۔ علاقے کی اکثریتی آبادی سرسبز پہاڑی اور خوبصورت وادیوں میں رہتی ہے جو مرکزی سڑک سے کافی دور واقع ہے۔ اس ضلع میں ایسے دیہات شامل ہیں جو پہاڑ کی چوٹیوں پر دشوار گزار مقامات پر واقع ہیں۔

علاقے کے زیادہ تر غریب نوجوان کان کنی جیسے مشکل اور جان لیوا پیشے سے وابستہ ہیں۔

Image caption شانگلہ میں ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد کوئلے کی کان میں کام کے دوران ہلاک ہو چکا ہے

شانگلہ میں خود کوئلے کی کوئی کان موجود نہیں البتہ یہاں کے باشندے سینکڑوں کلومیٹر دور سفر کر کے ملک کے مختلف صوبوں بلوچستان، پنجاب، سندھ اور قبائلی علاقوں میں کام کرنے کے لیے جاتے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان بھر میں واقع کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 80 فیصد تک مزدروں کا تعلق شانگلہ اور سوات کے اضلاع سے رہا ہے۔

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہاں کے باشندے انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور یہ دوسرے علاقوں کے مکینوں کی نسبت سخت جان بھی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھٹن اور خطرناک کام ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانوں میں اجرت عام مزدوروں کے مقابلے میں زیادہ دی جاتی ہے۔

کوئلے کی کانوں میں عام طورپر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہے جس کے باعث وہاں اکثر اوقات گیس کے اخراج یا کان گرنے جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مزدور لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں۔

شانگلہ میں ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد کوئلے کی کان میں کام کے دوران ہلاک ہو چکا ہے۔

اس ضلع کے دو علاقے پورن اور صدر مقام الپوری ایسے مقامات ہیں جہاں کے زیادہ تر باشندے کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہیں اور یہاں مرنے والے غریب نوجوانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

شانگلہ کے ایک مقامی صحافی نوید احمد کا کہنا ہے کہ شانگلہ سوات ہی کی طرح کا ایک سیاحتی مقام ہے لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں یہاں کسی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا ہے۔

’ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت میں سیاحت کے وزیر کا قلمدان شانگلہ کے ایک رکن صوبائی اسمبلی کے پاس رہا ہے لیکن گذشتہ پانچ سال کے دوران علاقے کی ترقی کےلیے کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں کیا گیا ہے جس سے کوئلے کے کانوں میں کام کرنے والے غریب مزدوروں کی زندگی میں کوئی تبدیلی آ سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ ضلع کی سیاسی شخصیات ہر سال ان سے ووٹ لیتے ہیں لیکن کبھی ان کی طرف سے اس جانب توجہ نہیں دی گئی کہ اندھیری کانوں کے نذر ہونے والوں کو بچایا بھی جا سکتا ہے اور ان کے لیے متبادل روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں