پختون تحفظ موومنٹ کا سوشل میڈیا نیٹ ورک کس طرح کام کرتا ہے؟

پی ٹی ایم

یہ سال 2017 کی بات ہے جس وقت منظور پشتین کو علاقے کے چند لوگ ہی جانتے تھے۔

منظور کے یونیورسٹی میں ان سے جونیئر ایک دوست محمد اسلم نے منظور سے مشورہ کر کے ایک تنظیم کی بنیاد رکھنی کی ٹھان لی تاکہ ان کے علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آواز اُٹھائی جائے۔

تنظیم بن گئی جس کے چند ممبران نے حلف لے کر قوم کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا اور پہلے مظاہرے کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا پر لوگوں سے مظاہرے میں شرکت کی اپیل کی اور ساتھ میں تنظیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے بھی اپیل کی گئی۔

اسی بارے میں

’قبائلی جاگ گئے ہیں‘

پی ٹی ایم جلسہ یا لاپتہ افراد کا اجتماع

’مشران محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا‘

کچھ دنوں بعد منظور اور ان کے ساتھیوں نے مطالبات کے حق کے لیے مظاہرہ کیا جس پر ان کو وزیرستان میں گرفتار کر لیا گیا۔ جونہی گرفتار کیا گیا تو ان کے دیگر ساتھیوں نے سوشل میڈیا پر ان کی رہائی کے لیے مہم شروع کی اور کارکنان کو بقول منظور کے دوست، حکومت نے رہا کر دیا۔

منظور کے ایک دوست نے جو آج کل بیرون ملک نوکری کر رہے ہیں، بی بی سی کو فون پر بتایا کہ نومبر2017 کو فیس بک پر انہیں منظور کا پیغام موصول ہوا کہ سوشل میڈیا پر کارکنوں کے رہائی کے لیے مہم شروع کریں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہی مہم تھی جس کی وجہ سے سارے کارکنوں کو رہا کیا گیا اور یہ تنظیم سوشل میڈیا پر پھیلتی گئی۔

’مجھے منظور نے بتایا کہ ہمیں دوران حراست یہ کہا گیا تھا کہ ہم ہر قسم کی جنگ لڑ سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے ساتھ کچھ نہیں کر سکتے اور یہی وجہ ہے کہ کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔‘

یہی سوشل میڈیا کارکن آج پشتون تحفظ موومنٹ کی تشہیر اور اپنی سرگرمیوں کو دنیا تک پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی ایم کو پاکستانی میڈیا پر بہت کم کوریج دی جا رہی ہے او یہی وجہ ہے کہ پی ٹی ایم کا پیغام دوسروں تک پہنچانے میں سوشل میڈیا کا کردار پی ٹی ایم کے کارکنوں کے مطابق بہت اہم ہے۔

اس اہمیت کے بارے میں تنظیم کے بانی منظور پشتین نے لاہور میں جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستانی میڈیا نے ان کی تنظیم کی سرگرمیوں کا بلیک آوٹ کیا ہے اور تنظیم کی ساری سرگرمیاں سوشل میڈیا پر کارکن کر رہے ہیں۔

یاد رہے منظور پشتین فیس بک لائیو کو اپنے خطاب کے لیے استعمال کرتے ہے اور چند لائیو تقریروں کو دو لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کی موجودگی کتنی ہے؟

بی بی سی نے جب فیس بک سرچ کیا تو پی ٹی ایم کے نام سے تقریباً 55 گروپس سامنے آئے جس میں سب سے بڑے گروپ میں ممبر کی تعداد چار لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ ایک دوسرے گروپ میں ارکان کی تعداد چار لاکھ 70 ہزار ہے۔

جتنے بھی گروپس بنائے گئے ہیں یا تو 'پی ٹی ایم' کے نام سے ہیں یا اس کے ساتھ علاقوں کے نام جیسا کے پی ٹی ایم سوات، بنوں، کراچی، صوابی، کوئٹہ،یورپ، دبئی اور اسی طرح دوسرے علاقوں کے نام لکھے گئے ہے۔

اس طرح فیس بک پر پی ٹی ایم کے نام سے تقریباً 28 صفحات بنائے گئے ہیں۔ ہر ایک صفحے پر ایک ہزار سے لے کر لاکھوں فالورز موجود ہیں۔ مجموعی طور پر ان صفحات پر فالورز کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہے۔اس تعداد میں وہ صفحات شامل نہیں ہیں جن کے لائیکس کی تعداد سو سے کم ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، ہم انھیں سنیں گے‘

پی ٹی ایم: مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

’پشتین ٹوپی‘ ایک علامت

منظور پشتین کے نام سے تقریباً 25 صفحات بنائے گئے جس میں ایک صفحے پر سب سے زیادہ 88 ہزار لائیکس ہیں۔

پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا ٹیم زیادہ تر واٹس ایپ پر ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت کرتی ہے۔

خلیجی ملک میں مقیم ایک پاکستانی جو پی ٹی ایم سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہے نے بی بی سی کو بتایا کہ بیرون ممالک میں قیام پذیر افراد واٹس ایپ گروپس میں مشورے دیتے ہیں جہاں پر تنظیم کے بڑے بھی موجود ہیں جہاں ان کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کے ’اوورسیز پی ٹی ایم‘ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ کے 100 سے زیادہ ممبرز ہیں جو پی ٹی ایم کے بارے میں مختلف ایشو پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

انھوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم پشاور جلسے میں اے پی ایس سانحے میں ہلاک ہونے والے ایک بچے کے والد فضل ایڈووکیٹ کو تقریر کا موقع نہیں دیا گیا تھا جس پر ہم نے مشورہ دیا کہ لاہور کے جلسے میں ان کو ضرور موقع دیا جائے اور پھر اسی طرح اس مشورے پر عمل کیا گیا۔

بیرونی ممالک کی پی ٹی ایم سوشل میڈیا ٹیم

رسول رحمان پاکستان سے باہر ایک ملک میں نوکری کرتے ہیں جن کے فیس بک پر فالورز کی تعداد 66 ہزار سے زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا واحد ذریعہ ہے جس پر ہم اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہاں کہ ہم نے لوگوں کو ایک آواز دی ہے اور ایسے لوگ جو پاکستان میں کھل کر اپنے مسائل پر بات نہیں کر سکتے تھے ہم نے ان کو وہ ہمت دی کہ وہ بلاخوف اپنے حقوق کی بات کریں۔

پی ٹی ایم کے سوشل میڈیا ٹیم کے ممبر اور مردان کے رہائشی شہزاد خان جو بحرین میں رہتے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا ٹیم کے ارکان زیادہ تر لندن، دبئی، آسٹریلیا، جرمنی، اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔

ان کے مطابق زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ ہیں جو اچھی نوکریاں کرتے ہیں اور تنظیم کے ساتھ ان کی ہمدردیوں کے باعث سوشل میڈیا پر ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی پی ٹی ایم سوشل میڈیا ٹیم کے کارکن موجود ہیں جو بیرون ملک سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ فیس بک کے علاوہ ٹویٹر پر بھی تنظیم کے حوالے سے مختلف ٹرینڈز بنتے رہتے ہیں۔

ایک کارکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں ٹرینڈز بنانے کے لیے ایک الگ وٹس ایپ گروپ ہے جہاں پر باہر کی سوشل میڈیا ٹیم کے مشورے سے ایک موضوع کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ وقت اور ہیش ٹیگ نام پر متفق ہو کر ٹویٹر پر ٹرینڈز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے ٹرینڈز پاکستان میں ٹاپ پر رہے ہیں۔ خصوصاً جس دن جلسہ ہوتا ہے اسی دن ٹریںڈز میں باہر کی سوشل میڈیا ٹیم زیادہ محنت کرتے ہیں کیونکہ یہاں کے کارکنوں کی اکثریت جلسے میں شرکت کے لیے چلے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں