شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت مکمل کرنے کے لیے مزید ایک ماہ کی مہلت

سپریم کورٹ آف پاکستان
Image caption سماعت کے لیے تین ماہ کی توسیع کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر مقدمات کی سماعت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے اب احتساب عدالت کے جج کو نو جون تک ان ریفرنسز کی سماعت مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو سماعت کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت بڑھانے کی اجازت دی ہے۔

اس سے قبل مارچ میں اس مدت میں دو ماہ کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اس بارے میں پڑھیے

شریف خاندان کے مقدمے مکمل کرنے کی مدت میں توسیع

شریف خاندان ایک اور ڈیل کی تلاش میں ہے: سیاسی جماعتیں

نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا

پاناما لیکس: 'رپورٹ کی جلد نمبر چار شریف خاندان کے لیے خطرناک'

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی طرف سے مقدمات کی سماعت کے لیے مزید وقت دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ملزم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ان مقدمات کی سماعت کے لیے تین ماہ کی توسیع کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی۔

خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رمضان شروع ہونے والا ہے جس میں کارروائی کے لیے آدھا دن ہو گا۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے ایک ماہ کی مہلت بہت کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نو جون تک اگر سماعت مکمل نہ ہوئی تو دوبارہ آ جائیے گا تو پھر اس معاملے کو دیکھیں گے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے ٹرائل عدالت سے التوا نہیں مانگا جا رہا۔ نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہر قانونی نکتے پر بحث کرنی ہے اس لیے جلدی میں ٹرائل مکمل کرنے میں غلطی ہوگی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ ایک ریفرنس میں تو دلائل مکمل ہوچکے ہیں اگر اس ریفرنس کا فیصلہ پہلے اور باقی دو کا بعد میں آ جائے تو کیا حرج ہے جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ان تینوں ریفرنس میں ایک جیسے گواہ ہیں لہٰذا ایسا کرنے سے ان کا دفاع متاثر ہوسکتا ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نو جون تک اگر سماعت مکمل نہ ہوئی تو دوبارہ آ جائیے گا تو پھر اس معاملے کو دیکھیں گے۔

اسی بارے میں