صوبہ بنانے کی شرط پر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نواز کے ممبران نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی نے تقریباً ایک ماہ قبل حکمران جماعت سے قطع تعلق کرنے کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے ایک جماعت قائم کی تھی۔

عمران خان کے گیارہ نکات: ’نوجوانو بڑے خواب دیکھو‘

ان ممبران نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے الیکشن تحریک انصاف کے جھنڈے تلے لڑیں گے۔

البتہ انھوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی وجہ تحریک انصاف کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبہ کو اپنے منشور کا حصہ بنانا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ’ٹو ہارس ریس‘ ہے، عمران خان

انھوں نے کہا کہ یہ طے ہوا کہ اگر تحریک انصاف حکومت میں آ گئی تو پہلے 100 دنوں میں جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے عملی اقدام شروع کیے جائیں گے۔

اس موقع پر خسرو بختیار نے کہا کہ حکمران مسلم لیگ گزشتہ 30 برسوں سے پنجاب پر حکمرانی کی ہے اور انھوں نے جنوبی پنجاب کو اس لیے صوبہ نہیں بننے دیا کہ وہ اپنے اقتدار میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر فیڈریشن کی تمام اکائیاں خوش ہوں گی تو اس سے فیڈریشن مضبوط ہو گی۔

عمران خان نے کہا کہ لاہور ان کا شہر ہے اور اگر لاہور پر پورے صوبے کے بجٹ کا 53 فیصد خرچ کیا جاتا ہے تو یہ لاہور کے لیے یقیناً اچھا ہو گا لیکن ملک کے لیے اچھا نہیں۔

اسی بارے میں