لوگوں کو فوج کے خلاف بھڑکانے پر پی ٹی ایم کی قیادت کے خلاف مقدمات

پشتون تحفظ موومنٹ
Image caption پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے 12 مئی کو جلسے کی تیاری کی گئی تھی( فائل فوٹو)

پاکستان کے شہر کراچی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسۂ عام سے تین روز قبل مقامی قیادت پر تین مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

سرکاری مدعیت میں ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ فوج کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا جا رہا ہے۔

کراچی کے منگھو پیر، بن قاسم اور شاہ لطیف تھانے میں یہ مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بن قاسم تھانے پر سب انسپیکٹر محمد رفیق جونیجو کی مدعیت میں دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایت پر پپری میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔

مقدمے کے مطابق جلسے میں مقررین نے کہا کہ وانا میں دہشت گردی فوجی اداروں کی پیداوار ہے، آپریشن کے نام پر پشتون قوم کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے، یہ ہی دہشت گردی کراچی میں بھی پشتونوں کے خلاف کی گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقررین نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز نے بھی پشتونوں کا قتل عام کیا ہے، لہٰذا تمام پشتونوں کو 13 مئی باغ جناح میں جلسے میں شرکت کر کے فوج اور ریاستی اداروں کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی تاکہ ریاستی اداروں کی جانب سے پشتونوں پر کیے گئے مظالم کا حساب لیا جا سکے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا راز

’کہا جاتا تھا ایسی باتیں آپ کو صرف موت دے سکتی ہیں‘

’مشران محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا‘

شاہ لطیف تھانے پر اے ایس آئی اسلم داد نیازی جبکہ منگھو پیر تھانے پر اے ایس آئی عبدالرحیم کی مدعیت میں مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

اے ایس آئی عبدالرحیم کا موقف ہے کہ منگھو پیر سلطان آباد اے این پی چوک پر منظور پشتین کے کہنے پر سو ڈیڑھ سو لوگ جمع تھے، جن سے محمد علی وزیر اور دیگر لوگ خطاب کرکے شرکا کو ریلیوں کی صورت میں نکلنے پر مجبور کر رہے تھے انہوں نے پاکستان فوج کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقررین کا کہنا تھا کہ مختلف نوعیت کے جھوٹے آپریشن کر کے ہزاروں لوگوں کو مروایا گیا اور خود ارب پتی بن گئے ہیں۔ دفاعی اداروں کے جنرل، بریگیڈیئر، کرنل سے پوچھنا ہے کہ جو تم لوگوں نے آپریشن کیے جن طالبان کو تم نے بھگایا وہ موجود ہیں تو پھر کون سا امن ہوا ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی ملیر عدیل چانڈیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پشتون تحفظ مومنٹ کے خلاف دو مقدمات دائر کیے گئے ہیں تاہم ان کی وجوہات اور تفصیلات پر انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔

یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے 13 مئی کو کراچی میں جلسۂ عام کا اعلان کیا گیا ہے۔ محمد علی جناح کے مزار کے سامنے باغ جناح میں جلسے کی اجازت کے لیے ضلعی انتظامیہ سے بھی اجازت طلب کی گئی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جن مختلف کارنر میٹنگ میں تقاریر کرتے تھے وہاں رینجرز والے جاتے تھے اور لوگوں کو دھمکاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ میٹنگز نہ کرو اس کے نتیجے میں چند لوگ ڈر جاتے تھے اور یہ میٹنگ منسوخ ہو جاتی تھی، پھر بھی کچھ لوگ ڈٹے رہتے تھے تو میٹنگ کے بعد وہ منتظمین کو بلاتے اور ڈراتے دھمکاتے جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو ان کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

Image caption پی ٹی ایم کے سربراہ لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے( فائل فوٹو)

واضح رہے کہ 12 مئی 2007 کو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری معزولی کے بعد کراچی آئے تھے تو ان کے استقبال کے لیے جانے والے قافلوں پر حملے کیے گئے جس کے بعد شہر میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف اور چوہدری افتخار کے حامیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، جس میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے ان میں اکثریت پشتونوں کی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’فوج مخالف نعروں کے باوجود جنرل باجوہ مثبت تھے‘

پی ٹی ایم: مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے 12 مئی کو جلسے کی تیاری کی گئی تھی، لیکن 11 سال کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی اسی روز جلسوں کا اعلان کر دیا جس کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے 13 مئی کو جلسے کا اعلان سامنے آیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب سے انہوں نے جلسے کا اعلان کیا ہے ادارے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں وہ لوگوں میں یہ مہم چل رہے ہیں کہ آپ پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت نہیں کریں۔

’ہم اس خوف کو توڑنے آئے ہیں جو انہوں نے لوگوں کے دلوں میں بنا رکھا ہے،انہیں یہ ڈر ہے کہ اگر یہ خوف ٹوٹ گیا تو ان کے اعمال لوگوں کے سامنے آ جائیں گے، انہوں نے جو قانون کو ہاتھ میں لے رکھا ہے وہ دنیا کے سامنے آ جائے گا اور جو جرائم انہوں نے ریاستی اداروں کی وردی کے سائے تلے کیے ہیں وہ بے نقاب ہو جائیں گے۔‘

اسی بارے میں