نہ معافی مانگوں کا نہ بریت کی اپیل کروں گا: نواز شریف

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی کیس میں سزا سنائے جانے کی صورت میں نہ معافی مانگیں گے اور نہ ہی رحم کی اپیل کریں گے۔

خیال رہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف نیب عدالتوں میں تین ریفرنسز کی سماعت ہو رہی ہے۔

جمعرات کو احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں پیشی کے بعد پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نواز شریف نے کہا کہ ’بڑے لوگ کہتے تھے کہ نواز شریف کے خلاف سزا سنائی جائے گی تو وہ صدر کے پاس جائیں گے اور وزیراعظم کے ذریعے اپنی معافی مانگیں گے، کبھی میرے ذہن میں یہ خیال تک نہیں آیا کہ اگر کبھی آتی ہے میرے خلاف خدانخواستہ کوئی سزا میں کسی سے معافی مانگنے یا رحم کی اپیل کرنے کے لیے نہیں جاؤں گا۔‘

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

حدیبیہ کیس: درخواست مسترد، عمران نیب پر برہم

نیب ریفرینسز: احتساب عدالت کو مزید ایک ماہ مل گیا

نواز شریف نے کہا کہ وہ احتساب عدالت میں 70 پیشیاں بھگت چکے ہیں لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکل رہا۔ اگر واقعی کوئی ثبوت ہوتا تو پہلے دس دن میں فیصلہ ہو چکا ہوتا۔

’میرا یہ خیال ہے کہ غالباً یہ چلانا چاہتے ہیں غیر معینہ مدت تک یا قیامت تک یہ کیس کرنا چاہتے ہیں یا جب تک کچھ گھڑ نہ لیں کوئی ایسی چیز بنا نہ لیں جو استعمال کر سکیں میرے خلاف سزا میں۔‘

چیئرمین نیب کی جانب سے مبینہ طور پر نواز شریف کے انڈیا منی لانڈرنگ کے ذریعے بھجوائے کے لاکھوں ارب ڈالر کے معاملے کی جانچ پڑتال سے متعلق پریس ریلیز پر اپنے ردعمل میں نواز شریف نے چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ان پر لازم ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں اپنے شواہد سامنے لائیں اگر ایسا نہیں کر سکتے تو میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قوم سے کھلے عام معافی مانگیں اور کھلے تعصب کا مظاہرہ کرنے کے بعد وہ اس منصب پر قائم رہنے کا جواز کھو چکے ہیں لہذا فوری طور پر استعفی دے کر گھر چلے جائیں۔ ‘

کسی بھی محب وطن پاکستانی پر اس قسم کے بے بنیاد، گھٹیا اور ناقابل برداشت بیانات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف نیب عدالت میں جاری ریفرنسز کا تعلق ایک بے سروپا میڈیا رپورٹ سے ہے جسے پاناما پیپرز کا نام دیا گیا تھا۔

کیا چیئرمین نیب کے خلاف موجودہ حکومت کوئی کارروائی کر سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’کچھ باتیں ایسی ہیں کہ اگر آج سیاسی جماعتیں کسی چیز کو ملک وقوم کے مفاد میں سمجھتی ہیں تو ان کو وہ ضرور کرنا چاہیے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو الیکشن کے بعد کرنے والی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ضرورت کے مطابق ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔‘

جنوبی پنجاب کے رہنماؤں کی مسلم لیگ ن سے علیحدگی اور پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبر پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہمارےارکان کو آزاد الیکشن لڑنے یا پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا کہا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں