سلمان تاثیر سے احسن اقبال

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption احسن اقبال پر حملہ کرنے والے شخص نے اپنا تعلق تحریکِ لبیک سے بتایا ہے

یقیناً اسلام میں کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں ہے لیکن بات یہ ہے۔۔۔

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ہر تبصرہ ہر بحث اسی طرح شروع ہوتی تھی اور پھر ان باتوں کا ایک ایسا سلسلہ چل نکلا جو ممتاز قادری کی قبر سے ہوتا ہوا فیض آباد پر دھرنا دیتا، داتا دربار پر نعرے لگاتا، نارووال تک جاپہنچا اور احسن اقبال کے دل سے کچھ دور گولی کی شکل میں پیوست ہوگیا۔

یار لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انھوں نے مارنا ہوتا تو گولی کندھے پر نہیں لگتی، ان کا مقصد ڈرانا تھا صفحہ ہستی سے مٹانا نہیں تھا۔

’احسن اقبال پر حملہ کرنے والے کا تعلق تحریکِ لبیک سے ہے‘

وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ، حالت خطرے سے باہر

خادم رضوی کی گرفتاری: پولیس نے جگہ جگہ اشتہار لگا دیے

یار لوگوں کو یقین ہے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتے ان کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا۔

یار لوگوں کا یقین اتنا پختہ ہے کہ وہ کبھی ان لوگوں کا نام بتانے کی زحمت ہی نہیں کرتے، توقع کرتے ہیں کہ آپ سب خود ہی سمجھ جائیں گے۔

میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کے ایک اچھے مسلمان اور گستاخ مسلمان میں فاصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

جہاں پر کل سلمان تاثیر کھڑا تھا وہاں پر آج احسن اقبال کھڑا ہے۔

دونوں مسلمان ہیں لیکن تاثیر صاحب بظاہر ایک لبرل مسلمان، ایک پارٹی کرنے والا مسلمان، سوشلسٹ سے بزنس مین بنا مسلمان، وطن عزیز میں مسلمان کی حدوں کو نہ ماننے والا مسلمان ایک غریب، غیر مسلم عورت کے حق میں بڑھک لگانے والا مسلمان۔

ایسے مسلمان کو اپنے انجام تک پہنچنے کے لیے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔ ان کا اپنا باڈی گارڈ سرکاری بندوق سے سرکاری گولیاں چلا دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمان تاثیر کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں ان کے محافظ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا

پھر غازی بنتا ہے اور شہید ہونے سے بچنے کے لیے اپیلیں کرتا ہے، کہ میری جان بخشی کی جائے میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

مسلمان ہونے کے پیمانے کے دوسرے سرے پر کھڑا ہے احسن اقبال۔

غالباً ابھی ان کی ایمبولینس رستے میں ہی ہوگی، کہ ان کے کابینہ کے ساتھیوں نے ہمیں یاد کرانا شروع کر دیا کہ احسن اقبال کوئی ایسا ویسا مسلمان نہیں ہے۔

صالح آدمی ہے صوم و صلوۃ کا پابند مسلمان ہے۔ کسی اور نے ہمیں یاد کرایا کہ ان کی والدہ ایک مذہبی جماعت کی رہنما تھیں، ایک صالح خاتون تھیں تہجد گزار تھیں اور ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے والی مجلس شوریٰ کی رکن تھیں۔

احسن اقبال پر جب سعودی عرب کا اقامہ رکھنے کا الزام لگا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ اس مقدس سرزمین کا اقامہ رکھنا کونسا مسلمان نہیں چاہے گا۔

تو ہر مروجہ معیار کے مطابق احسن اقبال ایک دیندار مسلمان، نمازی، پرہیزگار اور عاشق رسول تھے۔

ان کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والا کہتا ہے کہ احسن اقبال گستاخ ہے اور اس کو قتل کرنے کا حکم اسے اوپر والوں کے بھی اوپر والوں نے خواب میں آ کر دیا تھا۔

جیسے آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ اصلی شہید سلمان تاثیر ہے یا ممتاز قادری، اسی طرح اب ہم پوچھتے پھریں گے کہ اصلی عشق رسول کون ہے، ہمارا وزیرداخلہ یا اس پر گولی چلانے والا نوجوان؟

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ نوجوان اکیلا ہی تھا، اس کے پیچھے کسی کا ہاتھ نہیں، لیکن کیا یہ ناکام قاتل واقعی اکیلا تھا یا اس کے ساتھ نہ نظر آنے والا ایک قافلہ چل رہا ہے؟

صحافی و تجزیہ کار محمد حنیف کے کالم پڑھیے

’لفافہ پکڑاؤ، گال تھپتھپاؤ اور گھر بھیجو‘

پٹھان تو ہو گا۔۔۔

دہشت گردی اور وردی

آواران سے اوکاڑہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے

گذشتہ انتخاب میں ایک انتہائی موثر انتخابی مہم ہمارے بھٹکے ہوئے طالبان بھائیوں نے چلائی تھی۔ ان کو اپنے مخالف سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نیٹ ورک کی ضرورت تھی۔ سلیپر سیل چاہیے تھے غریبوں کے بچوں کی چھاتیوں پر باندھنے کے لیے خودکش جیکٹیں درکار تھیں۔

پھر بھی طالبان نے پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کو تقریباً گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔ باقی جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی کھلی آزادی تھی کیونکہ طالبان کی سوچ کے مطابق ان میں اچھے یا کم ازکم قابل برداشت مسلمان تھے۔

گذشتہ الیکشن میں احسن اقبال ایک اچھے مسلمان تھے آج وہ گستاخ ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ اس انتخابی مہم میں خودکش بمباروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہر دوسری گلی کے کونے پر ایک نوجوان موجود ہے جس کے دل میں حُب رسول کا دستی بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔

خواب میں حکم آنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی، اور ایک کنگال، بے روزگار نوجوان جب اپنی کرنے پر آجائے تو 30 بور کا پستول کہیں سے پیدا کر ہی لے گا۔

لیکن جس تیزی سے کل کے مومن آج کے گستاخ ٹھہرائے جارہے ہیں کوئی دن جاتا ہے کہ کوئی غازی غلام خادم رضوی کا گریبان پکڑے گا اور کہے گا اوئے گستاخ ۔۔۔

اسی بارے میں