عدالت یہ محسوس کرتی ہے کہ ہزارہ قبیلے کی نسل کشی ہو رہی ہے: چیف جسٹس

ہزارہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہزارہ برادری ٹارگٹ کلنگز کے خلاف دھرنے دیتی رہی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدالت یہ محسوس کرتی ہے کہ ہزارہ قبیلے کی نسل کشی ہو رہی ہے جس پر عدالت کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لینا پڑا۔

جسٹس ثاقب نثار نے یہ ریمارکس کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے جو ان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہزارہ قبیلے کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر حکومت ہزارہ برادری کو تحفظ نہیں دے سکتی تو انھیں جینے کا راستہ تو دے۔

یہ بھی پڑھیے

’کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے‘

پانچ سو دسواں ہزارہ

ہزارہ قبیلے کی جانب سے بیرسٹر افتخار نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ 20 سال سے قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے لیکن ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آرہی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کی جو حکومت کے بعد آرمی چیف سے کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوئی

انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2008 میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے جن میں 208 افراد مارے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کی کوششوں کی وجہ سے اب ان واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

آئی جی پولیس نے بتایا کہ رواں سال کے چار ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں قبیلے سے تعلق رکھنے والے نو افراد ہلاک ہوئے۔

بیرسٹر افتخار نے بتایا کہ اگر 2013 کے سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جائے تو یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ 2013 میں تیار کیا جانے والے پلان کو 2018 کی صورتحال سے ہم آہنگ کیا جائے اور وہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جو کہ تمام معاملات کا جائزہ لے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی طرح بھی یہ نہیں چاہتی کہ قبیلے کے لوگوں کو غیر مطمئن واپس بھیجا جائے

انھوں نے ہدایت کی تمام انٹیلیجینس ادارے رپورٹ دیں کہ ہزارہ قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ کس طرح کی جارہی ہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن کے سوال پر آئی جی پولیس نے کہا کہ صوبے کے 34 اضلاع میں سے 22 میں ایس پی رینک کے افسران نہیں۔

آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ افسروں کی کمی وجہ سے انہیں پولیسنگ میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے ۔

ہزارہ کون ہیں؟

  • ان کے آباؤاجداد کا تعلق منگولوں اور وسط ایشیائی خطے سے تھا
  • کہا جاتا ہے کہ یہ چنگیز خان کی فوج کے ساتھ 13ویں صدی میں اس علاقے میں آئے
  • ان میں سے اکثریت شیعہ مسلمان ہیں اور افغانستان اور پاکستان میں آباد ہیں
  • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ ہزارہ آباد ہیں
  • پاکستان کے قومی کمیشن برائے حقوق انسانی کے مطابق گذشتہ پانچ برس کے دوران 500 سے زیادہ ہزارہ افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ ہزارہ ہزارہ تنظیموں کے مطابق ہلاک شدگان تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔

سماعت کے دوران عدالت میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سیاسی و قبائلی عمائدین، خواتین، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نشانہ بننے والے افراد کے لواحقین بھی موجود تھے۔

عدالت نے اس موقع پر ایک خاتون درخواست گزار کو سنا جس نے اپنے ایک رشتہ دار کی گمشدگی کی بارے میں درخواست دی تھی۔ چیف جسٹس نے پولیس اور دیگر حکام کو ہدایت کی وہ درخواست گزار سے رابطہ کریں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی طرح بھی یہ نہیں چاہتی کہ قبیلے کے لوگوں کو غیر مطمئن واپس بھیجا جائے ۔

ہزارہ قبیلے کے وکیل یہ بھی شکایت کہ ان کے عمائدین سے بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ تاہم اس موقع پرڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے کہا کہ ہم نے سکیورٹی واپس نہیں لی ہے۔

نسل کشی کیا ہے؟

  • نسل کشی سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل دو کے مطابق کسی بھی مذہبی، لسانی، قومی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے اور قتل کرنے کا نام نسل کشی ہے۔
  • گروہ کے ممبران کو جسمانی اور ذہنی طور پر شدید نقصان پہنچانا۔
  • کسی بھی گروپ پر جان بوجھ کر ایسی پابندیاں لگانا جو اسے مکمل طور پر یا اس کے حصوں کی تباہی کا باعث بنے۔
  • ایسے اقدامات کرنا جن کے پیچھے یہ مقصد ہو کہ کسی گروہ کی افزائش نسل کو روکا جا سکے۔
  • کسی گروہ میں شامل بچوں کو زبردستی دوسرے گروہ میں شامل کرنا۔

عدالت نے ہزارہ قبیلے کے وکیل کو ہدایت کی وہ تمام متاثرین اور درخواست گزاروں کی درخواستوں پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کرکے عدالت کو پیش کریں تاکہ معاملے کا حل نکالا جاسکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکم دیتی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ حکم پر عملدرآمد ہو۔

چیف جسٹس نے ہزارہ قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق 15 یوم میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ازخود نوٹس کی سماعت رمضان المبارک کے بعد تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں