پشتون تحفظ موومنٹ:’منظور پشتین نے ہمارا خوف ختم کر دیا ‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ اتوار کی رات گئے تک جاری رہا

پاکستان کے شہر کراچی میں رکاؤٹوں کے باوجود پشتون تحفظ موومنٹ جلسۂ عام منعقد کرنے میں کامیاب رہی۔

جلسے میں بڑی تعداد میں پشتونوں کے علاوہ مزدور تنظیموں، خواتین کے حقوق کی کارکنوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں نے شرکت کی۔

پشتون کمیونٹی کی اکثریتی آبادی کے علاقے سہراب گوٹھ الاصف سکوائر کے پیچھے ایک خالی جگہ پر پی ٹی ایم کو جلسے کی اجازت دی گئی تھی۔

مٹی اور پتھروں سے بھرے ہوئے میدان میں نہ کرسیاں تھیں اور نہ ہی دریاں بچھائی گئیں تھی اس مشکل صورتحال کے باوجود لوگ کئی گھنٹے اس میدان میں بیٹھے رہے۔

ساؤنڈ سسٹم بھی صرف سٹیج تک محدود تھا اور سورج غروب ہونے کے باوجود بجلی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ منتظمین کی جانب سے انتطامیہ سے کیا گیا وعدہ تھا کہ جلسہ شام تک ختم ہوجائے گا لیکن منظور پشتین کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے جلسہ دیر تک جاری رہا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا فوج اور پشتین ایک پیج پر نہیں؟

’دھمکیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ملک بھر میں احتجاج‘

منظور پشتین کون ہے؟

پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا راز

جلسے میں صرف دو رنگ کے جھنڈے نظر آئے سفید اور سیاہ، یعنی سوگ اور امن کا نشان، جس میں سے صرف سفید پی ٹی ایم تحریر تھا، ان جھنڈوں کی تعداد بھی کم تھی جبکہ شرکاء کی ایک بڑی تعداد جن میں خواتین بھی شامل تھیں اور انھوں نے پشتیں ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔

جلسے کی کمپیئرنگ ثنا اعجاز کر رہی تھیں جنہیں پاکستان ٹیلیویژن سے فارغ کیا گیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے پی ٹی ایم سے وابستگی بتائی تھی۔

جلسہ گاہ میں لاپتہ پشتون، بلوچ اور سندھی نوجوانوں کے اہل خانہ بھی اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی تصاویر سمیت موجود تھے، جن میں سے صغیر بلوچ کی بہن کو سٹیج پر بلایا گیا جنہوں نے اپنے بھائی کی گمشدگی کی کہانی بیان کی۔

جلسے میں مزدور تنظیموں کے کارکن اور رہنما بھی نظر آئے، جن میں پائلر کے کرامت علی شامل تھے۔

انہوں نے مزدور تحریک کا پی ٹی ایم کے ساتھ رشتہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تو بنیادی انسانی حقوق کے مسائل ہیں جو سب کے برابر ہیں پھر چاہے وہ مزدور یا کسان ہوں یا جاگیردار اور سرمایہ دار۔ ٹریڈ یونین کی بنیاد ہی اسی پر ہے کہ تمام لوگوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

’ہماری درخواست ہے کہ حکومت ایک کمیشن قائم کرے جو لوگ حراست میں ہیں انہیں فوری عدالتوں میں پیش کریں، عدالتیں چاہیں تو انہیں رہا کر دیں یا سزا دیں لیکن جن کے نقصان ہوئے گھر برباد ہو گئے انہیں معاوضہ دینا چاہیے، اتنا تو کر سکتے ہیں۔‘

Image caption مٹی اور پتھروں سے بھرے ہوئے میدان میں نہ کرسیاں تھیں اور نہ ہی دریاں بچھائی گئیں تھی

خواتین متحدہ محاذ اور خواتین کے حقوق کی دیگر تنظیموں کی جانب سے پی ٹی ایم کے جلسے کے لیے باضابطہ مہم چلائی گئی تھی، محاذ کی ایک رہنما مہناز رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو پتہ ہے کہ جب گھر کا کوئی بندہ لاپتہ ہو جائے تو یہ کتنا اذیت ناک عمل ہے۔

’ہر شہری اور بلخصوص عورتوں کا یہ حق ہے کہ اگر ان کا بھائی یا بیٹا لاپتہ کر دیا جاتا ہے تو انہیں بتایا جائے کہ وہ کہاں ہے، گھر والوں کو اس سے کتنی اذیت ہو سکتی ہے یہ صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے ہم اس ماں کا دکھ سمجھتے ہیں اسی لیے یہاں آئے ہیں۔‘

سپر ہائی وے سے جلسہ گاہ کی طرف آنے والے راستوں پر بھاری تعداد میں رینجرز اہلکار موجود تھے جبکہ جلسہ گاہ کے چاروں اطراف میں پولیس اہلکار تعینات تھے۔ سٹیج سے بار بار یہ اعلانات ہوتے رہے کہ لوگوں کو جلسے میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔

جلسہ گاہ میں استاد اور تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد بھی موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اتنی پابندیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو روکنے کے باوجود اتنے لوگوں کا جمع ہو جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور یہ ایک پرجوش جلسہ ہے۔

’پشتونوں کا جلسہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں خواتین موجود ہیں اور کمپیئرنگ ایک خاتون کر رہی ہیں جو ایک مثبت اقدام ہے انتطامیہ جتنا اس تحریک کو روکے گی یہ اتنی شدت سے آگے بڑھے گی، الیکشن کا زمانہ ہے کل کو اس کے کہنے پر لوگ ووٹ دے سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جلسے میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے شرکت کی

پاکستان میں عوامی نیشنل پارٹی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کی صورت میں پشتون قوم پرست جماعتیں موجود ہیں دونوں ہیں ہی خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان کے علاوہ وفاق میں حکومت میں شریک رہی ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ کم وقت میں پشتون تحفظ موومنٹ کو اتنی پذیرائی ملی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’مشران محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا‘

’منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، ہم انھیں سنیں گے‘

’کہا جاتا تھا ایسی باتیں آپ کو صرف موت دے سکتی ہیں‘

اس جلسے میں موجود شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے شعبہ سماجی علوم کے سربراہ ڈاکٹر ریاض شیخ کا کہنا ہے کہ سب سے اہم معاملہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں اور سیاسی جماعتوں کا ایجنڈہ کیا ہے اگر ان کا تعلق عوام سے ہے تو خود بخود ہر آدمی ان کے ساتھ آ کر جڑے گا۔

’پشتونوں کے دس ہزار لوگ لاپتہ ہیں یا بلوچوں کے سات آٹھ ہزار لاپتہ ہونے کی بات کی جاتی ہے اسی طرح سندھ میں لوگ لاپتہ ہیں، اتنے سارے لوگوں کا یہ مقبول ایجنڈہ تو بن جاتا ہے دوسرا یہ ریاست جو جبر کی صورتحال لیکر آگے بڑھ رہی ہے اس میں لوگوں کو اپنی مایوسی کے اظہار کا کوئی فورم چاہیے کیونکہ جو اہم سیاسی جماعتیں ہیں بدقمستی سے وہ اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں جس میں عوام کے اصل مسائل پیچھے رہ گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن شرکا سے چندہ اکٹھا کرتے رہے

جلسہ گام میں سٹیج سے ثناء اعجاز نے بڑے بڑے باکس دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم پر غیر ملکی اداروں سے فنڈنگ کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں جبکہ ہمیں لوگ فنڈ کرتے ہیں، یہ باکس لیکر نوجوان جلسہ گاہ میں چکر لگاتے رہے جس میں کم از کم پچاس تو زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپے تک لوگ ڈال رہے تھے۔

2015 میں ایک چھوٹی سی گارمنٹ فیکٹری کے مالک امجد خان کے والد شیر رحمان بھی اپنے بیٹے کی تصویر لیے پھرتے ہوئے نظر آئے۔ ان کے بیٹے کو طالبان کے ساتھ تعلق کے الزام میں ایک مبینہ مقابلہ میں ہلاک کیا گیا تھا، آخر اتنے سال وہ کیوں خاموش رہے؟

شیر رحمان کا کہنا تھا کہ ’انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ بات نہ کرو لیکن منظور پشتین نے جب سے اس معاملے کو اٹھایا ہے اس سے ان کا ڈر ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ موبائل پر اس کی تقرریں سنتے ہیں جس نے ان میں ہمت پیدا کی ہے۔‘

اسی بارے میں