پشتون تحفظ موومنٹ: دہشت گرد شمالی وزیرستان میں واپس آ گئے ہیں

شمالی وزیرستان تصویر کے کاپی رائٹ A MAJEED
Image caption شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں حال ہی میں بعض شدت پسندوں کے واپس آنے اور متحرک ہونے کی خبریں آئی تھیں

شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔

حکام کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات پر بات چیت جاری ہے اور بدھ کو بھی ایک ایک جرگہ ہوا ہے۔

اس دھرنے کا آغاز ’یوتھ آف وزیرستان‘ نے کیا تھا لیکن اب پشتون تحفظ موومنٹ نے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور موومنٹ کے ایک رہنما محسن داوڑ دھرنے میں شرکت کے لیے میر علی گئے تھے۔

واپس لوٹنے پر انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ ’شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے واپس آنے کی اطلاع ہے اور انھوں نے مقامی مشران اور عام لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وہ اتنی آسانی سے ہدف بناتے ہیں کہ وہ رات کو لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور بچوں اور عورتوں کے سامنے انھیں قتل کر دیتے ہیں اور اسی کے خلاف دھرنا دیا جا رہا ہے۔‘

مزید پڑھیئے

شمالی وزیرستان کے لوگوں سے بدسلوکی کی شکایات

’وزیرستان میں جلسہ کر سکتے ہیں، لاہور میں کیا مسئلہ ہے؟'

انھوں نے مزید بتایا کہ دھرنا دینے والوں کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ علاقے میں امن و امان کی یقین دہانی کروائی جائے۔

محسن داوڑ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ بدھ کو حکام اور دھرنے کے شرکا کے درمیان مذاکرات ہوں اور اگر لوگوں کی تسلی کروا دی جائے تو دھرنا ختم ہو جائے۔

اہل علاقہ کے مطابق گذشتہ ایک مہینے میں میر علی اور میران شاہ کے مختلف علاقوں میں رات کی تاریکی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کم از کم دس لوگ مارے جا چکے ہیں۔

یہ احتجاجی دھرنا میر علی کے مرکزی چوک پر جاری ہے اور سوشل میڈیا پر ’میر علی سِیٹ اِن‘ ہیش ٹیگ کے ذریعے دھرنے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جا رہی ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق دھرنے کا آغاز دو دن پہلے ٹارگٹ کلنگ کے آخری واقعے کے بعد ہوا، جس میں موسیٰ کلیم نامی ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ موسیٰ کلیم جمعیت علما اسلام ف کے سابق ایم این اے مولانا دیندار خان کے صاحبزادے تھے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے بی بی سی پشتو کے نامہ نگار خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپریشن ضرب عضب کے دوران مقامی لوگوں کے مکانات سمیت تجارتی مارکیٹیں بھی تباہ ہوئیں اور لگ بھگ دس لاکھ لوگ بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے لیکن وہاں آج بھی شدت پسند متحرک ہیں اور گذشتہ ایک مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دس لوگ مارے جا چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں