مستونگ کے کیڈٹ کالج میں بچوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل، کالج پرنسپل گرفتار

مستونگ
Image caption ویڈیو میں واضح طور پر ایک شخص کہتا ہے کہ نویں جماعت کے طلبہ کی پٹائی کی جائے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے کیڈٹ کالج میں طلبا کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی )اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ کالج کے پرنسپل کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس تشدد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس میں واضح طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ کیڈٹ کالج کے بعض طلبا کو ایک میدان میں منہ کے بل لٹایا گیا ہے اور چند لوگ ان طلبہ کی لاٹھی کی مدد سے پٹائی کر رہے ہیں اور دیگر افراد ان کے آس پاس سے گزر رہے ہیں اور کچھ کے پاس ڈنڈے ہیں۔

یہ مار اتنی زور کی ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے طلبا کی آہ و بکا واضح طور پر سنی جاسکتی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا اور مقامی پرنٹ میڈیا میں تشدد کی اس خبر کو اہمیت نہیں دی گئی تاہم سوشل میڈیا پر تشدد کی یہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔

کیڈٹ کالج مستونگ میں ہونے والے واقعے کے بارے میں بلوچستان ہائیکورٹ بار کی جانب سے صوبائی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔

واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے ہائیکورٹ بار کے صدر شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ کالج کے پرنسپل کا بیٹا اسی کالج میں ساتویں کلاس کا طالب علم ہے ۔

Image caption کیڈٹ کالج مستونگ جہاں بچوں کو مارنے کی ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

ہائیکورٹ بار کے صدر کے مطابق پرنسپل کے بیٹے کو نویں جماعت کے ایک طالب علم نے تھپڑ مارا جس پر نویں جماعت کی پوری کلاس کے طلبا کو سزا دی گئی۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں سے ایک میں یہ صاف طور پر سنا جا سکتا ہے جہاں ایک شخص کہتا ہے کہ 'نائنتھ والوں کو لگاؤ دو دو'۔

شاہ محمد جتوئی کا کہنا تھا کہ عدالت نے طلبا پر تشدد کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف کاروائی کا حکم دیتے ہوئے اس سلسلے میں پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی ہے ۔

ہائیکورٹ کی جانب سے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کے حکم کے علاوہ گورنر بلوچستان نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے ۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق گورنرنے کالج کے پرنسپل کو معطل کرنے کے علاوہ اس واقعہ کے بارے میں انکوائری کمیٹی قائم کی ہے ۔