’کون لوگ او تسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس کو دو دو منٹ کے کلپس بنا کر ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔

سوشلستان میں اس ہفتے جاوید ہاشمی کا چرچا رہا۔ پاکستان کی چار اہم سیاسی جماعتوں میں رہنے والے جاوید ہاشمی نے ملتان میں پریس کانفرنس کی، جسے پاکستانی کے اکثر چینلز نے نشر نہیں کیا۔ جسے بعد میں سوشل میڈیا کا استعمال کر کے عوام تک پہنچایا گیا۔

جاوید ہاشمی نے اس پریس کانفرنس میں جرنیلوں اور اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کی جسے اس کے ٹی وی سکرینوں سے غائب ہونے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ رات سے ایک اور ٹرینڈ ٹوئٹر پر چل رہا ہے 'کون لوگ او تسی' جس پر مختلف لوگ تبصرہ کر رہے ہیں جن میں اکثریت مسلم لیگ ن کے حامیوں کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے چند رہنماؤں کے میڈیا بلیک آؤٹ کے 'اوپر سے آئے احکامات' کے بارے میں بھی بات چل رہی ہے۔

'کون لوگ او تسی'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس ٹرینڈ پر رات بھر ٹویٹس کی گئیں اور اب تک یہ صفِ اول کے ٹرینڈز میں شامل ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ رائے عام ہے کہ جاوید ہاشمی نے اپنی پریس کانفرنس میں 'فوج کے جرنیلوں کے خلاف ایسی تنقید کی ہے جو آج تک ملک کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت کے بڑے رہنما نے نہیں کی۔'

رانا جاوید نے لکھا 'جاویدہاشمی کی پریس کانفرنس میں کی گئی باتوں کا تفصیلی جواب آنا چاہیے۔ اس قوم کو اب مزید بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ نا ہی اب کسی کی آواز دبائی جاسکتی ہے۔'

رانا محمد مشتاق نے مطالبہ کیا کہ 'چیف جسٹس صاحب جاوید ہاشمی کو، بلائیں نوازشریف کو، بلائیں جرنیلوں کو۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption خدائی مخلوق بمقابلہ خلائی مخلوق

اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے گذشتہ رات سے 'کون لوگ او تسی' کا ہیش ٹیگ چل رہا ہے۔

مرتضیٰ سولنگی نے لکھا 'یہ نہیں پوچھیں گے کس کے حکم سے ڈان اخبار کی ملک بھر میں تقسیم روکی گئی ہے۔ نواز شریف کی وہ بات کیوں چھاپی جو ساری دنیا جانتی ہے اور ہر ایرا غیرا پہلے ہی کہہ چکا ہے۔'

مگر سوال کرنے والے بھی بہت ہیں جیسا کہ عمر بلال اعوان نے سوال کیا کہ 'نواز شریف اب کیوں انکشافات کر رہے ہیں؟ جب وہ وزیراعظم تھے تب انہوں نے کیا کیا؟ تب تو ان سب قوتوں کی گوشمالی کر سکتے تھے جن کے بارے میں وہ اب شکوہ کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ @umerbilalawan
Image caption عمر بلال اعوان نے سوال کیا کہ آخر نواز شریف اب کیوں انکشافات کر رہے ہیں؟

اس حوالے سے مختلف چینلز پر جاوید ہاشمی یا نواز شریف کی تقریر نہ چلانے کے بارے میں شکوہ کیا گیا مگر سب سے زیادہ سوالات سرکاری ٹی چینل پر وزیراعظم کی پریس کانفرنس نشر نہ کرنے پر اٹھائے گئے۔ سنسر شپ کا تذکرہ بھی ہوا۔

جہانگیر ڈار نے سوال کیا کہ 'وزیراعظم کی پریس کانفرنس لائیو نشر نہیں کی گئی آج جاوید ہاشمی صاحب کی پریس کانفرنس کا بھی بائیکاٹ کیا گیا پاکستان کی تاریخ کی بد ترین سنسرشپ کی جا رہی ہے اس کا مقصد کیا ہے؟'

عبدالمنان کا خیال تھا کہ 'آج لولی لنگڑی جمہوریت کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب منتخب وزیراعظم کی تقریر کو بھی سنسرشپ کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔'

افراسیاب خٹک نے ٹویٹ کی کہ 'میڈیا کی آزادی کو پامال کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں۔ مگر اس سے زیادہ شرمناک تمام خاموش تماشائی ہیں۔ جمہوریت کا دکھاوا بھی ختم کر دیا گیا۔'

افراسیاب خٹک کا اشارہ ان خبروں کی جانب تھا جس کا تذکرہ پاکستان میڈیا واچ نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ نے کیا کہ تین نیوز چینلز کے اینکروں کو 'انتظامیہ کی جانب سے احکامات ملے ہیں کہ رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری اور عظمیٰ بخاری کو اپنے شوز میں نہ بلایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ نواز شریف کا دفاع کرنے والے کو مکمل طور پر ہٹا دیا جائے۔ اس پر عملدرآمد میں ناکامی پر چینل کی بندش ہو سکتی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption طلعت حسین کی جوابی ٹویٹ

اس پر طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ 'ان میں سے کچھ خبروں میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی نہیں ہے۔'

علی وارثی نے طنز کرتے ہوئے لکھا 'دنیا نیوز پر جاوید ہاشمی کا جو انٹرویو کیا گیا تھا، وہ رات ایک بجے نشرِ مکرر میں نہیں چلا۔ اس کی جگہ ایک پرانا پروگرام دوبارہ چلا دیا گیا ہے 'ہم پر کوئی پریشر نہیں ہے'۔

ملک انور ذیب خان نے لکھا 'سنسرشپ، میڈیاپرسچ اورحق بات نشر کرنے پر پابندی، کالم نویسوں کے کالم کو چھپنے نہیں دینا جمہوری حکومت کے کاموں میں مداخلت، چینلز کو ان کی مرضی کی نشریات چلانے نہیں دینا؟ مارشل لا ہی توہے؟'

ندیم رضا نے چینلز پر کام کرنے والے اینکرز کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا 'کس نے سنسرشپ کی ہے؟ اگر کسی نے کی ہے تو نام کیوں نہیں لیتے جناب؟

عمار مسعود نے بحث سمیٹنے والی ٹویٹ کی کہ 'خدائی مخلوق ، خلائی مخلوق سے پوچھتی ہے کون لوگ او تسی۔‘

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ @AAyazofficial
Image caption پاکستانی سکواش کھلاڑی احسن ایاز جنہوں نے کارڈف میں ویلز اوپن میں شرکت کی اور کوراٹر فائنل میں انہیں شکست ہوئی۔ احسن ایاز پاکستانی سکواش کے ابھرتے ہوئے ستارے ہیں۔ احسن ایاز پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن ورلڈ ٹور میں حصہ لے رہے ہیں اور وٹیز سٹافروڈ کلاسک کے سیمی فائنل میں آج مقابلہ کریں گے۔
Image caption گرمیوں کا موسم آنے کو ہے اور سیاحوں کے ہاتھوں پُرفضا مقامات پر آلودگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس تصویر میں آپ برف پر پڑا گند دیکھ سکتے ہیں جو سیاح اپنے چھوڑ کر گئے ہیں۔