من میت کور: ’والدین نے کہا تم غلط راستے پر ہو مگر پہلی رپورٹ کے بعد سب بہت خوش تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
من میت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی رپورٹنگ سے اقلیتوں کے مسائل اجاگر کریں گی

’میرے والدین کہتے تھے کہ من میت تم بہت غلط راستے پر جا رہی ہو، تم باہر گھومو گی اور یہ ایک خاتون کے لیے اچھا نہیں ہے لیکن جب انھوں نے میری پہلی رپورٹ دیکھی تو سب بہت خوش تھے اور فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔‘

یہ کہنا ہے پشاور کی رہائشی 24 سالہ من میت کور کا، جو پاکستان میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون صحافی ہیں۔ من میت نے حال ہی میں اپنی نشریات کا آغاز کرنے والے پاکستانی نیوز چینل ’ہم نیوز‘ میں بطور رپورٹر کام شروع کیا ہے۔

جب میں من میت سے ملنے پہنچا تو وہ نیوز روم میں دیگر رپورٹرز کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھیں اور ساتھ ساتھ اپنے ایک ٹی وی پیکج کے لیے سکرپٹ بھی لکھ رہی تھیں۔

پشاور یونیورسٹی سے سوشل سائنسز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ من میت کا میڈیا میں کام کرنے کا یہ پہلا تجربہ ہے اور ان کے مطابق ایک ٹی وی چینل میں کام کرنے کے سلسلے میں انھیں دو چیلنج درپیش تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک چیلینج تو یہ تھا کہ وہ پاکستان میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایک خاتون بھی ہیں جن کا کسی ادارے میں ملازمت کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

من میت کور کے مطابق عموماً ان کی کمیونٹی میں تعلیم کا رجحان بہت کم رہا ہے اور ان کے خاندان کے بہت کم مردوں اور خواتین کو باہر نوکری کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

Image caption من میت کور کے لیے ایک ٹی وی چینل میں کام کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا

لیکن من میت کور نے یہ دونوں چیلنج قبول کرنے کا عزم کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب ہم نیوز پاکستان میں لانچ ہو رہا تھا تو انھوں نے اس میں ملازمت کے لیے درخواست دی اور کچھ ہی دن بعد انھیں کال آ گئی کہ وہ انٹرویو کے لیے آفس آ جائیں۔

پاکستان میں سکھ مذہب کے بارے میں مزید پڑھیں!

’شکر ہے کہ کرکٹ میں سکھ لڑکا سامنے آیا‘

’گردوارہ جہاں مسلمان دیے جلاتے ہیں‘

’پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے‘

’والد مظفر آباد کی وادیوں کو یاد کرتے تھے‘

من میت کے مطابق جب انھوں نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا کہ انھیں ایک ٹی وی میں بطور رپورٹر کام کرنے کے لیے انٹرویو کے لیے بلایا گیا ہے تو گھر والوں نے مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین کو راضی کرنے کے لیے انھوں نے بہت کوشش کی اور اس سلسلے میں انھیں اپنے بیورو چیف اور ماموں کی مدد حاصل رہی جن کی کوششوں سے ان کے والدین مان گئے۔

من میت کا کہنا تھا کہ اسی نوکری کے لیے ان کے مقابلے میں ایک سکھ لڑکا بھی تھا لیکن سکروٹنی کے بعد ان کا انتخاب کر لیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اپنی پہلی رپورٹ کے بارے میں اپنے والدین کو بتایا اور ان کے والدین نے وہ رپورٹ دیکھی تو سب بہت خوش تھے اور فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔

من میت کور سے جب پوچھا گیا کہ وہ میڈیا میں آ کر کیا کرنا چاہتی ہیں، تو انھوں نے بتایا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی رپورٹنگ سے اقلیتوں کے مسائل اجاگر ہوں گے کیونکہ وہ خود اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے مسائل بہتر جانتی ہیں۔

Image caption من میت کور کا کہنا ہے کہ خواتین کا تعلق اقلیتی برادری سے ہو یا نہ ہو، اگر ان میں ٹیلنٹ ہو تو انھیں سامنے آنا چاہیے

ان کے مطابق ان کی کمیونٹی کے لوگوں کو ایک قسم کی حوصلہ افزائی بھی ملتی ہے جب ان کے اپنے کسی ٹی وی میں کام کرتے ہوں اور ان کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔

من میت کور کا کہنا ہے کہ خواتین کا تعلق اقلیتی برادری سے ہو یا نہ ہو، اگر ان میں ٹیلنٹ ہو تو انھیں سامنے آنا چاہیے کیونکہ خواتین کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا اور وہ دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں خواتین کی کمی

پاکستان میں خواتین کی میڈیا تناسب مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بالخصو ص اقلیتوں کے لیے نوکریوں میں کوٹے پر بھی درست طریقے سے عمل درامد نہیں ہورہا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ایک سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 380 مرد صحافیوں کے مقابلے میں صرف 20 خواتین پریس کلب یا یونین کی رکن ہیں۔

اسی سروے کے مطابق بلوچستان میں صرف دو خواتین صحافی جبکہ مرد صحافیوں کے تعداد 133 ہیں، جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں کوئی بھی خاتون صحافی موجود نہیں ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں خاتون رپورٹرز موجود نہیں ہیں۔ سروے کے مطابق اس کی بڑی وجہ خواتین کو اس شعبہ میں آنے کے لیے گھر سے اجازت نہ ملنا شامل ہے۔

پشاور میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رادیش ٹونی عرصہ دراز سے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام رہے ہیں۔ رادیش ٹونی نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اقلیتوں کے لیے سرکاری دفاتر میں تین فیصد کوٹہ مقرر ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا اگر کچھ ہورہا ہے تو اس میں صرف مردوں کو نوکری دی جاتی ہے اور خواتین کی اس میں حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جبکہ میڈیا میں تو اقلیتی برادری سے خواتین نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اسی بارے میں