'گلگت بلتستان عملی طور پر صوبہ ہے قانونی طور پر نہیں'

گلگت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلگت بلتستان آڈر 2018 میں وفاق کے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 نافذ تو کر دیا ہے لیکن اِس شمالی علاقے کی سیاسی جماعتوں نے اسے آئین پاکستان کے خلاف جاری کیا جانے والا حکم نامہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی باتیں بھی عام ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق اِسے پانچواں صوبہ بنانے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا حل طلب تنازع سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گلگت بلتستان: قدیم زبانیں اور دائمی محرومی

جنگلات کی کٹائی سے کیا نقصان ہوتا ہے؟

گلگت بلتستان صوبہ کیوں نہیں بن سکتا؟

پاکستان میں قائم علاقائی اور بین الاقوامی اُمور پر خود مختار تحقیقاتی ادارے سے منسلک تحقیق کار نیلم نگار کے مطابق:

  • گلگت بلتستان کا معاملہ کشمیر کے تنازع کے ساتھ منسلک ہے اور جب تک رائے شماری کے ذریعے اُس معاملے کو حل نہیں کیا جاتا تب تک اِس علاقے کو باقاعدہ صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔
  • گلگت بلتستان کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ جب تک صوبہ نہیں بنایا جاتا انھیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرز کا انتظامی ڈھانچہ فراہم کیا جائے تاکہ وہاں کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل حل ہو سکیں۔

گلگت بلتستان میں حزبِ مخالف کا موقف

گلگت بلتستان میں حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ سمجھتے ہیں کہ پیر کے روز جاری کیا جانے والا گلگت بلتستان آڈر 2018 آئین سے ماورا جاری کیا گیا ہے۔

  • گلگت بلتستان کو بھی وہی درجہ دیا جانا چاہیے جو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو انڈیا نے دیا ہے۔
  • کشمیر کے تنازع کے حل اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنائے جانے تک یا تو اس شمالی علاقے کو متنازع قرار دے کر آئین میں نمائندگی دی جاسکتی ہے۔
  • دوسری صورت میں گلگت بلتستان کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرز پر انتظامی اُمور چلانے کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاں کے لوگ اِس مقصد کے لیے اِس علاقے کو اگر صوبہ ممکن نہیں تو 'متنازع' علاقے کے طور پر ہی آئین میں شامل کرانا چاہتے ہیں

موجودہ صورتحال

  • پاکستان میں حقوق، قوانین اور مفادات کا تحفظ آئینِ پاکستان کے ذریعے کیا جاتا ہے اور گلگت بلتستان کی آئینِ پاکستان میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اِس کا استحصال ہو رہا ہے۔
  • زمینیں، پہاڑ، ماحول، سڑکیں، قوانین، پانی، جنگلات اِن سب کا تحفظ آئینِ پاکستان سے باہر رہ کر کیا جانا نہایت مشکل کام ہے۔
  • یہاں کے لوگ اِس مقصد کے لیے اِس علاقے کو اگر صوبہ ممکن نہیں تو 'متنازع' علاقے کے طور پر ہی آئین میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔
  • پاکستان کی قومی اسمبلی اور گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کی بنیاد پر سینیٹ میں نمائندگی اب بھی ایک خواب ہے جو اِس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔

حکومتِ پاکستان کا موقف

گلگت بلتستان میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے مشیر اطلاعات شمس میر کے مطابق گلگت بلتستان آڈر 2018 میں وفاق کے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے۔

  • یہاں کے لوگوں کو معاشی، انتظامی اور قانونی لحاظ سے طاقتور بنایا گیا ہے اور انھیں اعلی عدالتوں تک رسائی دی گئی ہے۔
  • اِس سب میں اِس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کے موقف پر کوئی آنچ نہیں آئے۔
  • گلگت بلتستان 'ڈی فیکٹو' صوبہ ہے 'ڈی جیرو' صوبہ نہیں ہے۔ (عملی طور پر ہے لیکن قانونی یا آئینی طور پر نہیں ہے) لہذا اِس کو اندرونی طور پر اختیارات دینے سے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی یا اثر نہیں پڑے گا۔

تاریخی پسِ منظر

تاریخی لحاظ سے گلگت بلتستان کو ریاستِ کشمیر کی نوابی ریاست کا درجہ حاصل تھا۔

تقسیم ہند کے وقت گلگت بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے مقامی فوج کے خلاف لڑائی کی تھی۔

پاکستان کے قیام کے بعد حکومتِ پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے الحاق سے متعلق رائے شماری کرانی تھی جس کی بنیاد پر اِن علاقوں کے انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاملہ طے کیا جانا تھا لیکن سیاسی اور بین الاقوامی مصلحتوں کی بنیاد پر یہ کام تاحال مکمل نہیں ہو پایا ہے۔

اسی بارے میں