پشاور کے میٹرو بس منصوبے سے تحریک انصاف کو انتخابات میں فائدہ ہو گا یا نقصان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عدم منصوبہ بندی کے باعث عوام کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ یا بی آر ٹی کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے اب اس منصوبہ کے تحریک انصاف کی حکومت میں مکمل ہونے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس تاخیر کی وجہ سے سیاسی طورپر آئندہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے یا وہ اس منصوبے کو بطور ’انتخابی نعرہ‘ استعمال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

تقریباً 50 ارب روپے کی خطیر رقم سے تعمیر ہونے والی پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کو گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں شروع کیا گیا جبکہ منصوبے کے افتتاح کے روز ہی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی طرف نے چند مہینے میں پورا کرنے کا دعویٰ کیا۔

تاہم ابتدا میں اس منصوبے پر نہایت تیز رفتاری سے کام کیا گیا لیکن اس کی ڈیزائننگ میں باربار تبدیلیوں کی وجہ سے یہ پراجیکٹ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا جارہا ہے۔

Image caption تقریباً 26 کلومیٹر پر مشتمل اس منصوبے پر ابتدائی طورپر 50 ارب روپے کے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا

ادھر تازہ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کا افتتاح اب دو جولائی کو کیے جانے کا امکان ہے جب صوبے میں عملاً نگران حکومت قائم ہوگی۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ منصوبے کے افتتاح کی تاریخ تبدیل ہوئی ہے۔ موجود تحریک انصاف کی حکومت کی مدت 28 مئی کو ختم ہورہی ہے۔

تقریباً 26 کلومیٹر پر مشتمل اس منصوبے پر ابتدائی طور پر 50 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا لیکن اب یہ لاگت مجموعی طورپر تقریباً 70 ارب روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔

پشاور کے سینئیر صحافی اور مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اول تو اس منصوبے کو انتہائی تاخیر سے شروع کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ انتخابات سے قبل اسے مکمل کر کے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے لیکن اب لگتا ہے کہ اس سے ان کو فائدے کی بجائے نقصان کا خدشہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر پی ٹی آئی خود اپنی حکومت میں اسے مکمل کرلیتی تو شاید اس سے کوئی سیاسی فائدہ ہوتا لیکن اب تو اس کے تکمیل میں کافی تاخیر ہو چکی ہے لہذا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کب مکمل ہوگا۔‘

ان کے مطابق اب تو یہ لوگ یہ سوالات بھی اٹھائے رہے ہیں کہ کیا واقعی شہر میں ایسی کسی منصوبے کی ضرورت تھی بھی یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے سیاسی مخالفین الیکشن مہم میں اس ایشو کو بھر پور انداز میں اٹھائیں گے اور ان کی کوشش ہو گی کہ اس کے ذریعے سے پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ بی آر ٹی کی ڈائزنینگ میں مسلسل تبدیلیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔

Image caption شوکت علی یوسفزئی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں دو ماہ کی تاخیر ہوئی

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے صوبائی رہنما شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی سروے سے لے کر تعمیراتی کام تک اور رقم کی فراہمی وغیرہ یہ سب ذمہ داری ایشیائی ترقیاتی بینک کی ہے جس میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈایزائن کی تبدیلی بھی ایشیائی ترقیائی بینک کے کہنے پر کی گئی ہے لہذا اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ یہ تبدیلیاں صوبائی حکومت کی خواہش پر کی گئی ہیں۔

شوکت علی یوسفزئی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں دو ماہ کی تاخیر ضرور ہوئی لیکن اس کے باوجود یہ لاہور اور دبئی کے میٹروز کے مقابلے میں تیزی سے تعمیر ہوا ہے۔

ترجمان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ یہ منصوبہ اس وجہ سے حکومت کے خاتمے کے آخری سال شروع کیا گیا تاکہ آنے والے انتخابات میں اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران پنجاب میں تعمیر ہونے والی میٹرو بس سروس کو جنگلا بس کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں