حکومت کے چند روز باقی، صوبوں میں بھی نگراں سیٹ اپ نہ بن سکا

Image caption پنجاب میں ابھی حکومت نے اپوزیشن سے نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے مشاورت نہیں کی

پاکستان میں وفاق اور چاروں صوبوں میں نگراں حکومتوں کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی کہیں بھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

خیبر پختونخوا میں نگران وزیر اعلیٰ کا اعلان آئندہ دو روز میں کر دیا جائے گا تاہم بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوتا نظر نہیں آ رہا جبکہ سندھ اور پنجاب میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور قائد حزب اختلاف مولانا لطف الرحمان کی ملاقات جمعے کو متوقع ہے جس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

صوبے میں نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اس سے پہلے بھی دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں جس میں نگران وزیر اعلیٰ کے لیے مختلف ناموں پر غور کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے ترجمان شوکت یوسف زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جانب سے نگران وزیر اعلیٰ کے نام پر اتفاق پایا جاتا ہے اور امید ہے کہ دو روز میں حتمی اعلان کر دیا جائے گا۔

نگراں وزیر اعظم کی نامزدگی کا طریقۂ کار کیا ہے؟

نگران وزیراعظم:’چلو پھر سوچ لیتے ہیں‘

نون لیگ میں ٹوٹ پھوٹ، نئی سیاسی بساط بچھ گئی؟

ان کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے مختلف ناموں پر غور کیا گیا ہے اور بظاہر دونوں جانب سے بعض ناموں پر اتفاق پایا جاتا ہے جس کے بعد یہ امید ہے کہ حکومت اور اپوزیشن متفقہ نگران حکومت کا اعلان کریں گے۔

متوقع امیدواروں میں ریٹائرڈ پولیس افسر، بیوروکریٹس، عدلیہ اور فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام سامنے آئے ہیں اور حتمی اعلان جمعے یا سنیچر کے روز کر دیا جائے گا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن متفقہ نام کا اعلان کریں گے اور یہ کوشش کی جائے گی کہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جانے نہ پائے۔

صوبہ سندھ میں نگران حکومت کے لیے دو سطح پر مذاکرات جاری ہیں، وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن سے مشاورت کر رہے ہیں جبکہ خواجہ اظہار الحسن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ میں وزیراعلی اور قائد حزب اختلاف کی ملاقات میں پیش رفت کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ میں گذشتہ دس سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں ہے جبکہ موجودہ ایوان میں ایم کیو ایم کے علاوہ مسلم لیگ فنکشنل اور تحریک انصاف بھی اپوزیشن میں شامل ہے ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنے والے اراکین پاک سرزمین پارٹی کی شناخت کے ساتھ موجود ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف نگران حکومت میں اپنے ہم خیال لوگوں کو لانے کے لیے سرگرم ہیں، وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن سے ملاقات متوقع ہے، اس ملاقات میں پیش رفت کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار عمر دراز کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نگراں وزیرِ اعلٰی اور نگراں حکومت کے حوالے سے تاحال کوئی نام سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس حوالے سے حکومتی جماعت کی حزبِ اختلاف سے کوئی مشاورت ہو پائی ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حوالے سے ان کی جماعت کی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اس ماہ کی 26 تاریخ تک متوقع ہے۔

پنجاب اسمبلی میں جزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان سیمعہ انوار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب تاحال مشاورت کے لیے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا تاہم ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی نگراں حکومت کے لیے موزوں ناموں کے حوالے مشاورت تاحال جاری ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پایا۔

بلوچستان میں صورتحال اب تک غیر واضح ہے ۔ نامہ نگار کاظم مینگل کے مطابق بلوچستان میں نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Balochistan Assembly
Image caption وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ ن کی خواہش ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ ہو۔ وہ تعلیم یافتہ اور نوجوان ہو

2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان میں حکومت کا قیام نو جون 2013 کو عمل میں آیا تھا جس کے پیش نظر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو کے مطابق بلوچستان کی موجودہ حکومت کی مدت دیگر حکومتوں کے ساتھ نہیں بلکہ کچھ دن بعد ختم ہوگی۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے تاہم ان کی خواہش ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ ہو۔ وہ تعلیم یافتہ اور نوجوان ہو۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی یہ خواہش ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ ایسی شخصیت جو کہ ایسٹیبلشمنٹ کی دباؤ میں نہ آئے اور وہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنائے ۔

اسی بارے میں