’فاٹا میں 70 سال کا کام کرنے کا وقت آ گیا‘

شاہد خاقان عباسی تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی آئین میں 31ویں ترمیم کی منظوری کے بعد حزبِ اختلاف کے قائد سید خورشید شاہ کے ساتھ

سوشلستان میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے فوج اور پی ٹی آئی کے دھرنے کا 'کچا چٹھا' کھولنے کے عمل کے حوالے سے بہت سارے ٹرینڈز ہیں۔ جہاں نواز شریف کے حمایتی ان کے بیان کے اُن نکات پر بات کر رہے ہیں جن سے ان کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے وہیں بہت سے لوگ اُن سے سوال کر رہے ہیں کہ 'یہ سب اب بتانے کا کیا مقصد ہے؟ مشاہد اللہ خان نے جب بات کی تھی تو اس وقت کیوں نہیں سب کچھ بتا دیا؟'

مگر اس ہفتے ہم اس 'سیاسی مقابلے بازی' کی بجائے پاکستان کی سیاسی تاریخ کی انتہائی اہم قانون سازی پر بات کریں گے۔

'فاٹا کا انضمام پاکستان کی گورننس کی تاریخ کا سب سے اہم قدم

پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایسے مناظر آج تک کم ہی دیکھنے کو ملے ہیں جب ملک کے ایک پِسے اور مجبور خطے اور اس کی عوام کی بہتری کے لیے پاکستان کی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور قانون سازی کریں۔

ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اس اہم موقع پر بنفسِ نفیس پارلیمان میں موجود تھے۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی ٹوئٹر پر اس بل کی منظوری کا سب سے زیادہ کریڈٹ عمران خان کو دیا جا رہا ہے۔

عادل نجم نے ٹویٹ کی کہ 'فاٹا کا انضمام پاکستان کی گورننس کی تاریخ کا سب سے اہم قدم ہو گا۔ فاٹا کے عوام کو شہریت سے انکار بہت ہی تکلیف دہ اور باعثِ شرم تھا جس کے بہت ہی تکلیف دہ نتائج سامنے آئے۔ اب کام کرنے کا وقت ہے جو ستر سال سے ہونا چاہیے تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان جمعرات کو طویل عرصے کے بعد پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے۔

فاٹا اصلاحات تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک نظام الدین خان نے ٹویٹ کی کہ 'ایک خواب کو سچائی میں بدلتے دیکھ رہا ہوں۔ قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 247 کو ختم کر دیا اور فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کر دیا، اور پاٹا کی مبہم حیثیت کو ختم کر دیا ہے اور بلوچستان کے نیم قبائلی علاقوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو سلام جو اس معاملہ پر متحد ہوئے۔ ایک قابلِ فخر موقع ہے۔'

محمد رضا علی نے لکھا 'فاٹا کے قبائلی علاقوں کے لوگوں نے بہت سے دکھ دیکھے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں کو معنی خیز استحکام، امن اور خوشحالی دی جائے۔ جو حقوق، نظام اور سہولیات ملک کے باقی حصوں کے عوام کو حاصل ہیں وہ اب فاٹا کے عوام کو بھی حاصل ہونے چاہیں۔'

یاسر چیمہ نے تبصرہ کیا کہ 'تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ جو ایک معاملے پر متحد ہوئے۔ فاٹا کے قبائلیوں کو اس ملک کے باقی عوام کی طرح قابلِ قدر انسان تسلیم کرنا۔ امید ہے کہ فاٹا کے عوام اس ریلیف سے فائدہ اٹھائیں گے اور اپنے گھروں میں ترقی دیکھیں گے۔'

سیف اللہ محسود نے لکھا 'یہ اس بارے میں نہیں ہے کہ فاٹا کے عوام اس ترمیم کے نتیجے میں کیا نتائج حاصل کریں گے اور کیا نہیں۔ بلکہ اس بات کا تسلیم کیا جانا اہم ہے کہ فاٹا کے عوام پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔'

قومی اسمبلی کے اجلاس میں غیر معولی یکجہتی کی فضا میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تقریر کے بعد کچھ تلخی آئی۔

فہیم مرزا نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ' فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنا تاریخی فیصلہ ہے تمام پاکستانیوں کو مبارکباد، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ آج اسمبلی میں ساری تقریریں اسی حوالے سے ہوتی اور ملتوی ہونے تک سب ساتھ بیٹھتے تاکہ عوام کو یہ تاثر دیا جاتا کہ صرف سیاست کی حد تک نہیں بلکہ واقعی آپ کے ساتھ ہیں۔'

مگر سب اس عمل سے خوش نہیں اور کچھ لوگ سوشل میڈیا پر اسے سازش قرار دے رہے ہیں۔

خالد جان داوڑ نے لکھا 'اپنے نامزد کردہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ کرنے کی زحمت نہ کرنے والا اور پورے پانچ سالوں میں 8 دن حاضری رہنے والا، خان صاحب آج حاضر جناب ہے! تو کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے نا ۔'

اس کے ساتھ جمیعت علمائے اسلام ف کے مولانا فضل الرحمان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی جنہوں نے اس ترمیم کی مخالفت کی پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرمی کے موسم میں پانی کہیں بھی ہو اپنی جانب مائل کر ہی لیتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Ayub
Image caption گلگت بلتستان کے ضلع گانھچے کا گاؤں کریس جہاں پل پر دروازہ لگایا گیا ہے۔ آپ کے خیال میں دروازہ کیوں لگایا گیا ہے؟

اسی بارے میں