گلگت بلتستان کو بھی وہی اختیارات حاصل ہیں جو باقی صوبوں کو ہیں: وزیراعظم

سکردو تصویر کے کاپی رائٹ Musa cholunkha
Image caption وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہیں

پاکستان کے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان کو بھی وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو صوبوں کو حاصل ہیں۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہیں۔

وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے باقاعدہ نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین میں پالیسی اصول جو پہلے گلگت بلتستان میں نافذ نہیں تھے، انھیں بھی اب یہاں نافذ کردیا گیا ہے، جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’وفاقی حکومت سے ٹیکس کے حوالے سے بات کریں گے‘

'گلگت بلتستان عملی طور پر صوبہ ہے قانونی طور پر نہیں'

یاد رہے کہ چند روز قبل گلگت بلتستان حکومت نے 2009 سے نافذ جی بی ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر منسوخ کرکے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی منظوری دی تھی۔

ادھر گلگت بلتستان اسمبلی میں جی بی آرڈینیس 2018 کے خلاف اپوزیشن ارکین نے وزیر اعظم کی موجودگی میں بھر پور احتجاج کیا اور اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

اس احتجاج میں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Musa cholunkha

اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی حزبِ اختلاف کے رہنما راجہ جہانزیب اور ن لیگ کے رہنما میجر آمین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

یاد رہے گذشتہ روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑیوں میں شیلنگ کے دوران راجہ جہانزیب زخمی ہوگئے تھے۔ وہ آج بیساکھی کے سہارے اسمبلی پہنچے۔

ادھر سکردو میں گلت بلتستان آرڈر کے خلاف ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اس آرڈر کو کالعدم قرار دینے اور جی بی کو صدارتی احکامات کے ذریعے چلانے کے بجائے پاکستان کا حصہ تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جی بی آرڈر کو گلگت بلتستان کی عوام کی توہین قرار دیتے ہوتے مسترد کیا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک طرف تو آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات واپس لے کرقبائلی علاقوں کی عوام کو خود مختیار بنایا گیا لیکن دوسری جانب گلگت بلتستان کی عوام سے اختیارات سلب کر کے وزیراعظم کو دیے گئے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اُن کی جماعت وزیراعظم سمیت کسی فردِ واحد یا بیوروکریسی کو گلگت بلتستان کے لیے قانون بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Musa cholunkha

واضح رہے کہ 22 مئی کو گلگت بلتستان حکومت نے 2009 سے نافذ جی بی ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آڈر منسوخ کرکے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی منظوری دی تھی۔ جس کے بعد صدر ممنون حسین نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے مشاورت کے بعد نئے جی بی آرڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

پاکستان کے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی منظوری کے بعد جی بی کو بھی وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو صوبوں کو حاصل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں