نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا: 'منظور آفریدی رن بنائے بغیر آؤٹ'

منظور آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ JAVED AFRIDI
Image caption منظور آفریدی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے ان کے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی قریبی مراسم رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے نگران وزیراعلیٰ کےلیے ایک غیر معروف صنعت کار منظور آفریدی کا نام تجویز کرنے کی اطلاعات پر اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس کے بعد اب منظور آفریدی کا نام واپس لیے جانے کا امکان ہے۔

اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے منظور آفریدی کے نام کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو کوئی دوسرا نام تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبوں میں بھی نگراں سیٹ اپ نہ بن سکا

سابق چیف جسٹس ناصرالملک پاکستان کے نگران وزیراعظم نامزد

تین دن پہلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا لطف الرحمان کے درمیان صوبے میں ممکنہ نگران سیٹ اپ پر مشاورت ہوئی جس کے بعد یہ اطلاع سامنے آئی کہ نگران وزیراعلیٰ کے لیے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صنعت کار منظور آفریدی کے نام پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔

تاہم اس ضمن میں حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

منظور آفریدی سینیٹ انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ایوب آفریدی کے بھائی ہیں جو بعد میں خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے۔

منظور آفریدی پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کے چچا زاد بھائی بھی ہیں جبکہ ان کے ایک چچا مسلم لیگ (ن) سے بھی منسلک رہے ہیں۔

ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی قریبی مراسم رہے ہیں۔

تاہم منظور آفریدی کے نام پر اتفاق رائے کی خبریں آنے کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ کیا صوبے میں ریٹائرڈ بیورکریٹس، ریٹائرڈ ججوں اور اچھے شہرت کے حامل سیاستدانوں کی کوئی کمی تھی جو ایک غیر معروف صنعت کار کو صوبے کے نگران وزرات اعلیٰ کے لیے چنا گیا۔

بعد میں منظور آفریدی کا نام اس وقت ایک متنازع حیثیت اختیار کرنے لگا جب سوشل میڈیا پر عمومی طورپر کثرِت رائے سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ منظور آفریدی کی نامزدگی مبینہ طور پر پیسے کے بل بوتے پر ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دو دن پہلے منظور آفریدی نے اچانک بنی گالہ جاکر عمران خان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بھی اب ان کے لیے تنقید کا باعث بن رہی ہے۔

ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں نے اس ملاقات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظور آفریدی کی ابھی باقاعدہ طور پر نامزدگی بھی نہیں ہوئی ہے لیکن وہ اس سے پہلے بنی گالہ پہنچ گئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ غیر جانب دار وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتے۔

پشاور کے سینیئر صحافی علی اکبر نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ 'منظور آفریدی رن بنائے بغیر آؤٹ۔'

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنما شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ منظور آفریدی کا بطور نگران وزیراعلیٰ نامزدگی کا کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا ہے اور نہ ان کے نام کو واپس لینے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما کی مشاورت سے نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی بہت جلد متوقع ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی طرف سے ان کو نگران وزیراعلی کی نامزدگی اعتماد میں نہ لینے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ کسی اورموزوں نام کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی بارے میں